Screenshot
برطانیہ میں جبری شادیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار نے ایک بار پھر اس سنگین مسئلے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان 12 سال یا اس سے کم عمر بچوں کی جبری شادیوں سے متعلق کم از کم 100 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں 27 بچے پانچ سال یا اس سے کم عمر جبکہ 62 کی عمر 10 سال سے زیادہ نہیں تھی۔
یہ صورتحال کاتالونیا کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ جنرالیتات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موسوس دِ اسکوادرا نے 2021 سے اب تک جبری شادی کے 47 منصوبوں یا کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ حکام کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں صرف تقریباً 2 فیصد متاثرین پولیس کو شکایت کرتے ہیں۔
برطانیہ میں صرف 2025 کے دوران جبری شادیوں سے متعلق حکومتی یونٹ نے 406 کیسز نمٹائے۔ ان میں 163 متاثرین کی عمر 17 سال سے کم اور 87 کی عمر 15 سال سے کم تھی۔ برطانوی حکام کے مطابق ان کیسز میں پاکستان سے متعلق 165، بنگلہ دیش سے 36 اور افغانستان سے 28 کیسز سامنے آئے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ جبری شادی کسی ایک مذہب، ثقافت یا قوم تک محدود نہیں ہے۔
کاتالونیا میں 2021 سے 47 جبری شادیوں کو ہونے سے روکا گیا جبکہ نو ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں شادی پہلے ہی ہو چکی تھی۔ صرف 2025 میں موسوس نے پانچ کوششیں ریکارڈ کیں، جن میں چار متاثرین نابالغ تھے۔
2009 سے کاتالونیا میں جبری شادیوں کے 240 مکمل یا ناکام کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 128 متاثرین نابالغ تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پوشیدہ نوعیت کا تشدد ہے۔ متاثرین اکثر خاندانی دباؤ، خوف اور انحصار کی وجہ سے پولیس سے رابطہ نہیں کرتے۔ کاتالونیا کی تنظیم Valentes i Acompanyades کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 300 نوجوان خواتین نے جبری شادیوں سے متعلق مدد حاصل کی۔
