Screenshot
سیوتا میں 30 جولائی کو تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کے بعد اسپین اور اٹلی کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی اختلافات کے درمیان اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کی معطلی میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی ہے۔
اٹلی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اسپین سے آنے والے مسافروں، خصوصاً ہوائی اور سمندری راستوں سے پہنچنے والوں کی سرحدی جانچ جاری رہے گی۔ اٹلی اس فیصلے سے جلد یورپی یونین کو بھی آگاہ کرے گا، کیونکہ شینگن زون میں اس نوعیت کے اقدامات غیر معمولی تصور کیے جاتے ہیں۔
اطالوی خبر رساں ادارے ADN Kronos کے مطابق وزیر داخلہ ماتّیو پیانتیدوسی نے اپنے ہسپانوی ہم منصب فرناندو گراندے مارلاسکا کو ایک ’’تعمیری ٹیلی فونک گفتگو‘‘ کے دوران فیصلے سے آگاہ کیا۔
اٹلی کا کہنا ہے کہ امیگریشن اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق جائزے کے بعد اسپین کے ساتھ سرحدی کنٹرول برقرار رکھنے کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔ تاہم روم نے اسپین اور یورپی یونین کی جانب سے علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا ہے۔
اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے مزید 15 دن تک سرحدی کنٹرول جاری رکھنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اطالوی اور یورپی سرحدوں کی سکیورٹی یقینی بنانے اور ممکنہ شدت پسندانہ دراندازی کو روکنے کے لیے عارضی طور پر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اٹلی کی جانب سے سرحدی کنٹرول کو مزید بڑھانے کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین نے ماضی میں اٹلی کے جزیرے لامپیدوسا پہنچنے والے تارکینِ وطن کو قبول کرنے میں اٹلی کی مدد کی تھی اور یورپی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اسپین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر اٹلی سے آنے والے مسافروں پر شینگن سرحدی کنٹرول مزید 15 دن کے لیے بڑھا دیے ہیں۔
اسپین نے اٹلی سے آنے والوں پر یہ کنٹرول ابتدائی طور پر 8 اگست کو ایک ماہ کے لیے نافذ کیے تھے، جو اب مزید 15 دن جاری رہیں گے۔
