ڈنمارک نے دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے رپورٹ کیا کہ کوپن ہیگن کی طرف سے شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں معطل کرنے کے 14 سال بعد دوبارہ شروع کردی گئی ہیں۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کی موجودگی میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے 14 سال کے انقطاع کے بعد دمشق میں اپنے ملک کے سفارت خانے کا دوبارہ افتتاح کیا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ڈنمارک کے سفارت خانے کے افتتاح کے فوراً بعد کہا کہ یہ شام اور ڈنمارک تعلقات میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ یہ قدم باقی یورپی ملکوں کو بھی شام میں سرمایہ کاری کرنے اور اسی راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔
واضح رہے کئی یورپی ملکوں نے دمشق میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے تھے اور معزول صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ بشار الاسد کے خلاف اٹھنے والے عوامی احتجاجات کے خونریز جھڑپوں میں تبدیل ہونے کے بعد یورپی ملکوں نے شام سے تعلقات ختم کیے تھے۔ شام میں تنازع 13 سال تک جاری رہا۔
سال 2024 کے آخر میں بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئے حکام شام کے مغرب اور یورپی ملکوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ یورپی ممالک بھی ہیں جو جنگ کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنے والے لاکھوں شامی باشندوں کی میزبانی بھی کر رہے ہیں۔ انہیں ملکوں میں ڈنمارک بھی شامل ہے۔
کچھ یورپی ممالک نے گزشتہ دو سالوں میں دمشق کی طرف سفارتی اقدامات کیے ہیں۔ جولائی میں فرانسیسی صدر میکرون کے دمشق کے دورے کے دوران احمد الشرع نے جلد ہی سفیروں کے تبادلے کے آغاز پر اتفاق کا اعلان کیا۔ اس کے بعد فرانسیسی سفارت خانے نے شامی تنازع کے بھڑکنے کے بعد 2012 سے اپنے دروازے بند کر رکھے تھے۔
شام کی بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فرانس نے دمشق میں ایک قائم مقام سفیر مقرر کیا ہے۔ تاہم اس نے ابھی تک اپنے سفارت خانے کے دروازے نہیں کھولے ہیں۔
مارچ 2025 میں برلن نے دمشق میں اپنا سفارت خانہ سرکاری طور پر دوبارہ کھول دیا۔ اس وقت کی وزیر خارجہ کے دورے کے ساتھ ہی سفارت خانہ کھولا گیا۔ اطالوی سفارت خانے نے بھی دمشق میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ جنوری 2025 میں سپین نے دمشق میں اپنے سفارت خانے کی عمارت پر اپنا پرچم بلند کردیا۔ وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس کی موجودگی میں پرچم بلند کیا گیا۔ میڈرڈ کی طرف سے شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں معطل کرنے کے تقریباً 13 سال بعد یہ اقدام کیا گیا تھا۔
لندن نے جولائی 2025 میں شام کے ساتھ اپنے مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا، یہ اعلان برطانوی وزیر خارجہ کے دمشق کے دورے کے ساتھ ہی کیا گیا۔ ترکیہ ان پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا۔ ترکیہ نے 2012 سے اپنا سفارت خانہ بند کیا تھا۔ قطر بھی شام میں اپنا سفارت خانہ کھول چکا ہے۔
