Screenshot
برسلز/یورپی یونین نے جمعے کے روز اسرائیلی وزراء کی جانب سے غزہ کے رہائشیوں کے انخلاء سے متعلق مختلف تجاویز کے بعد، فلسطینی آبادی کو غزہ کی پٹی سے منتقل کرنے کی کسی بھی اسرائیلی "کوشش” کو مسترد کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کو "مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ” ہونا چاہیے۔
برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان کرسچن وگینڈ نے کہا"ہم غزہ کی پٹی میں آبادیاتی یا علاقائی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کے تحت غزہ کی پٹی کو مغربی کنارے کے ساتھ یکجا کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ غزہ کے رہائشیوں کی زبردستی منتقلی نہیں ہونی چاہیے۔ غزہ ایک آزاد اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ناگزیر حصہ ہے۔”
یورپی یونین کے ترجمان نے یہ بیان اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر کے اس منصوبے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیا جسے "ڈس کنیکشن 710” (Desconexión 710) کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلے سال 2,50,000، تین سالوں میں 11.1 لاکھ، اور سات سالوں میں یہ تعداد بڑھا کر 18.6 لاکھ غزاویوں کی "رضاکارانہ ہجرت” کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ تنازع سے قبل غزہ کی آبادی تقریباً 21 سے 23 لاکھ کے درمیان تھی۔
اس تجویز میں انخلاء اختیار کرنے والوں کے لیے پہلے دو سال کے دوران رہائش، صحت کے نظام، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مددی مراعات کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو رقوم کی ادائیگی کا احاطہ بھی شامل ہے جو ان فلسطینیوں کو اپنے ہاں پناہ دیں گے۔
ان تجاویز کے مقابلے میں، وگینڈ نے یاد دلایا کہ یورپی یونین کا موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 کے مطابق ہے، جو غزہ کی پٹی کی آبادیاتی ترکیب یا جغرافیائی علاقے کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہے۔
اس تناظر میں، یورپی یونین کے ترجمان نے اسرائیلی حکام کے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "اشتعال انگیز زبان ناپائیدار اور ناقابل قبول ہے”، اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی کوششیں کشیدگی کو کم کرنے پر مرکوز رکھیں۔
بن گویر کے یہ بیانات اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئے ہیں، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل سمندری، فضائی اور تمام ممکنہ ذرائع سے فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے "منظم اور تیار” ہے۔
