Screenshot
رباط: مراکش کے وزیرِ تعمیراتِ عامہ و پانی نزار برکہ نے ایک بار پھر اسپین کے زیرِ انتظام شہر سیوتا پر مراکش کے تاریخی دعوے کو دہرایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپین مراکش کا ایک ’’اہم شراکت دار‘‘ ہے، تاہم قومی سرزمین کے معاملے پر مراکش اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔
نزار برکہ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ مراکش اپنی قومی سرزمین کے حوالے سے ’’ایک بالشت بھی پیچھے نہیں ہٹے گا‘‘۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین اور مراکش کے درمیان ہجرت، سرحدی سکیورٹی اور سیوتا و میلییا کی حیثیت جیسے معاملات مسلسل توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سیوتا شمالی افریقہ میں واقع ایک ہسپانوی خودمختار شہر ہے، جو آبنائے جبل الطارق کے قریب انتہائی اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ مراکش طویل عرصے سے سیوتا اور میلییا کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان پر دعویٰ کرتا چلا آ رہا ہے، جبکہ اسپین دونوں شہروں کو اپنی خودمختاری کے تحت سمجھتا ہے۔
سیوتا کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ یہ شہر مختلف ادوار میں فونیقی، کارتھیج، رومی، ویزی گوتھ، بازنطینی اور مسلم حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہا۔ 1415ء میں پرتگال نے سیوتا پر قبضہ کیا، جبکہ 1580ء میں پرتگالی اور ہسپانوی تاج کے اتحاد کے بعد شہر اسپین کے زیرِ انتظام آ گیا۔ 1640ء میں پرتگال کی آزادی کے باوجود سیوتا نے اسپین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔
مراکش کی جانب سے سیوتا کے حصول کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ تاریخ میں مراکشی افواج نے متعدد مرتبہ شہر کا محاصرہ کیا، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مراکش سیوتا اور میلییا کے معاملے کو اب بھی اپنے قومی علاقائی دعوے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ اسپین دونوں شہروں پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے پر قائم ہے۔
