Screenshot
میڈرڈ/ اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے سویڈن میں گزشتہ اتوار ہونے والے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سویڈن میں گزشتہ چار سال سے قدامت پسند رہنما اُلف کرسٹرسن کی حکومت قائم تھی، جسے پارلیمان میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی حمایت حاصل تھی۔
انتخابی نتائج کی حتمی گنتی بدھ کے روز مکمل ہوئی، جس میں معمولی فرق سے مرکز بائیں بازو کے اتحاد نے کامیابی حاصل کی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار اور سابق وزیرِ اعظم میگدالینا اینڈرسن سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی امیدوار رہیں اور اب نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری ان کے پاس ہوگی۔
پیدرو سانچیز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں میگدالینا اینڈرسن کے لیے حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’نئی ترقی پسند حکومت تشکیل دینے کے لیے میری مکمل حمایت میگدالینا اینڈرسن کے ساتھ ہے۔‘‘
سانچیز نے مزید کہا کہ سویڈن میں سوشل ڈیموکریسی نے انتخابات جیت لیے ہیں اور دائیں بازو کی چار سالہ حکومت کے بعد سویڈش عوام نے ایک بار پھر فلاحی ریاست، سماجی انصاف اور ماحول دوست ایجنڈے کو ترجیح دی ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز اسپین کی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کی ایگزیکٹو ترجمان مونتسے منگیز نے بھی سویڈش انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی پسپائی کا خیرمقدم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اسپین کے شہریوں کے لیے بھی ایک ’’انتباہ‘‘ ہونی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سویڈن نے انتہائی دائیں بازو کی حمایت سے حکومت کا تجربہ کیا اور اس دوران حقوق میں کمی دیکھی، جس کے بعد سویڈش عوام نے اسے دوبارہ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
2022 کے انتخابات کے بعد قدامت پسند اُلف کرسٹرسن نے دیگر دائیں بازو کی جماعتوں، یعنی کرسچن ڈیموکریٹس اور لبرلز کے ساتھ معاہدہ کرکے حکومت تشکیل دی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کی سویڈن ڈیموکریٹس جماعت حکومت میں شامل نہیں ہوئی، تاہم پوری پارلیمانی مدت کے دوران اسے پارلیمان میں حکومت کی حمایت حاصل رہی۔
