Screenshot
بارسلونا: موسمِ گرما میں معمولات، کھانے کے اوقات اور غذائی عادات میں تبدیلی کے باعث ہاضمے سے متعلق مختلف مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسپین کے ہسپتال ویل ڈی ہیبرون کی ماہرِ امراضِ ہاضمہ ڈاکٹر کیرولینا مالاگے لادا نے موسمِ گرما میں عام ہونے والی ہاضمے کی بیماریوں اور ان سے بچاؤ کے لیے اہم احتیاطی تدابیر بیان کی ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق گرمی میں سب سے بڑا مسئلہ خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت میں اگر کھانے کو مناسب طریقے سے فریج میں نہ رکھا جائے تو اس میں بیکٹیریا اور زہریلے مادے پیدا ہو سکتے ہیں، جو اسہال، الٹی، پیٹ میں درد اور بخار کا سبب بن سکتے ہیں۔ موسمِ گرما میں خوراک سے پیدا ہونے والی گیسٹرواینٹرائٹس کے کیسز بھی زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔
ماہر نے خاص طور پر انڈے سے بنی اشیا، مایونیز، گھریلو ساسز، گوشت، مچھلی، دودھ سے بنی مصنوعات اور چاول یا پاستا کے بارے میں احتیاط کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق پکے ہوئے چاول یا پاستا کو کئی گھنٹے کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑنے سے ایسے بیکٹیریا کی افزائش ہو سکتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ساحل یا پکنک پر جاتے وقت کھانے کو پورٹیبل کولر میں رکھنا اور دھوپ میں زیادہ دیر نہ چھوڑنا ضروری ہے۔
انہوں نے پھل اور سبزیاں کھانے سے پہلے اچھی طرح دھونے کی ہدایت بھی کی۔ پانی کے حوالے سے ایسے ممالک میں جہاں نلکے کا پانی محفوظ نہ ہو، بوتل کا پانی استعمال کرنے اور نامعلوم پانی سے بنے برف کے ٹکڑوں سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نے روایتی “کَٹ آف ڈائجیشن” کے بارے میں وضاحت کی کہ کھانے کے فوراً بعد ٹھنڈے پانی میں اچانک اترنے سے درجہ حرارت میں شدید تبدیلی بعض حالات میں بے ہوشی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے پانی میں بتدریج داخل ہونا بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمِ گرما میں بھاری کھانوں، دیر سے رات کا کھانا، زیادہ چکنائی اور الکحل سے تیزابیت، متلی اور پیٹ کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ گرمی میں پھل، سبزیاں، ہلکی غذائیں، دہی اور کم چکنائی والے کھانے ترجیح دینے کے ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینا مفید ہے۔
