Screenshot
2026 کے دوران اب تک تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن اور پناہ گزین سمندری راستوں سے یورپ پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 39 فیصد کم ہے۔ 2025 میں اسی مدت کے دوران تقریباً 98 ہزار افراد سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچے تھے۔ تاہم، آمد میں کمی کے باوجود ان خطرناک سفر کے دوران ہلاک یا لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے اعداد و شمار کے مطابق، یکم جنوری سے 15 ستمبر 2026 تک کم از کم 2,292 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 2,000 ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔
IOM کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا کہ اعداد و شمار بیک وقت دو صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں: سمندری راستے سے یورپ پہنچنے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک یا لاپتا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اموات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تارکینِ وطن بعض اوقات مزید خطرناک راستے اختیار کر رہے ہیں۔
اسپین کی جانب آنے والے بحرِ اوقیانوس اور مغربی بحیرۂ روم کے راستوں پر بھی آمد میں 26 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ 2025 میں 22,855 افراد کے مقابلے میں 2026 میں اب تک 16,794 افراد اسپین پہنچے، تاہم اسی عرصے میں 879 اموات ریکارڈ ہوئیں۔
اٹلی کی جانب جانے والے وسطی بحیرۂ روم کے راستے پر آمد میں سب سے نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں تعداد 48,231 سے کم ہو کر 21,393 رہ گئی، یعنی 55 فیصد کمی۔ اس کے برعکس اموات 844 سے بڑھ کر 996 ہو گئیں۔
یونان کی جانب جانے والے مشرقی راستے پر بھی آمد 25,427 سے کم ہو کر 20,428 ہوئی، جبکہ ہلاکتیں 284 سے بڑھ کر 417 تک پہنچ گئیں۔
