Screenshot
برسلز/یورپی پارلیمنٹ نے سیوتا میں 30 اور 31 جولائی کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کے معاملے پر ایک غیر پابند قرارداد منظور کی ہے۔ قرارداد میں اسپین کی جانب سے اسی سال منظور کی گئی غیر معمولی قانونی حیثیت دینے کی پالیسی کو بڑے پیمانے پر ہجرت کے لیے ممکنہ ’’اثرِ کشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے حق میں 339 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 225 نے مخالفت اور 16 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے سیوتا کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے غیر قانونی ہجرت کو ’’ہائبرڈ جنگ‘‘ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیے جانے پر تشویش ظاہر کی اور یورپی و قومی حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ سیوتا اور میلیا ہسپانوی اور یورپی شہر ہیں اور ان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یورپی پارلیمنٹ نے مراکش کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور مراکش کے درمیان شراکت داری رکن ممالک کی علاقائی سالمیت کے غیر مشروط احترام پر مبنی ہونی چاہیے۔ قرارداد کے مطابق ہسپانوی خودمختاری پر سوال اٹھانے والے بیانات یورپی یونین کے ساتھ مراکش کی شراکت داری کی ذمہ داریوں سے ’’ناقابلِ قبول اور غیر ہم آہنگ‘‘ ہیں۔
قرارداد میں یورپی یونین سے سرحدی نگرانی مزید مضبوط بنانے، فرونٹیکس کی صلاحیت بڑھانے اور بیرونی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران 141 تارکینِ وطن کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات سے بچا جا سکتا تھا۔ ساتھ ہی غیر قانونی طور پر آنے والے ان افراد کی واپسی کا عمل تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاہم یورپی پارلیمنٹ نے مراکش پر براہِ راست یہ الزام عائد نہیں کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر داخلے کے واقعات میں ملوث تھا۔
