Screenshot
اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی سطح پر ضابطہ کاری کا منصوبہ پیش کریں گے۔ ہسپانوی حکومت کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے خود ضابطہ کاری موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں، اس لیے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی معیار اور مشترکہ قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
سانچیز پیر کو نیویارک روانگی سے قبل میڈرڈ میں حکومت کی جانب سے تیار کردہ منصوبے کی تفصیلات پیش کریں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ AI کی ترقی کے دوران انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ اور جمہوری اقدار کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
وزیرِاعظم کے دورۂ امریکا میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل امور خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ منگل کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں مصنوعی ذہانت سے بچوں کے حقوق کے تحفظ پر گفتگو ہوگی۔ جمعرات کو وہ بوسٹن میں ہارورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی فورم سے بھی خطاب کریں گے، جہاں AI کے خطرات، مواقع اور بڑی ٹیک کمپنیوں میں طاقت کے ارتکاز کے جمہوریت پر اثرات زیرِبحث آئیں گے۔
سانچیز نیویارک کے میئر زوہرن مامدانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اقتصادی ترقی، دولت کی منصفانہ تقسیم، روزگار اور اجرتوں سے متعلق امور پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ ملاقات گلوبل پروگریسیو فاؤنڈیشن کی میزبانی میں ہوگی۔
دوسری جانب سانچیز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کریں گے۔ گوتریس کی مدتِ عہدہ کا آخری سال ہے اور ان کے جانشین کے انتخاب کا عمل بھی زیرِبحث ہے۔
سانچیز کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی استقبالیہ تقریب میں شرکت تاحال حتمی نہیں ہوئی۔ اسپین کی حکومت کو دعوت دو روز قبل موصول ہوئی تھی، تاہم مصروفیات کے باعث شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سانچیز اس سے قبل بھی AI کے شعبے میں طاقت کے ارتکاز پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور عالمی سطح پر اس شعبے کے لیے مؤثر ضابطہ کاری پر زور دیتے رہے ہیں۔
