Screenshot
سیوتا کی ساحلوں پر عارضی طور پر مقیم 3 ہزار سے زائد تارکینِ وطن کو جمعہ کے روز بندرگاہ کے علاقے میں قائم نئے عارضی استقبالیہ مرکز منتقل کر دیا گیا۔ تاہم نئے مرکز میں تقریباً 1700 افراد کی گنجائش ہے۔ منتقلی کے دوران پولیس کے بڑے آپریشن کے درمیان کچھ دیر کے لیے کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔
آپریشن کا آغاز صبح تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر ہوا، جس میں قومی پولیس کے 170 اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ان میں یو آئی پی کے اہلکار، ڈرون ٹیکنیکل ٹیمیں اور مختلف پولیس یونٹس شامل تھے۔ اس کے علاوہ جی آر ایس اور یو ایس ای سی آئی سی کے تقریباً 70 اہلکار بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موجود تھے۔
پولیس نے پہلے بینیتز ساحل پر موجود تارکینِ وطن کو ایک جگہ جمع کیا اور بعد میں ٹرامپولین کے علاقے میں موجود افراد کو بھی وہاں منتقل کیا۔ دونوں گروہوں کو اکٹھا کرنے کے بعد 3 ہزار سے زائد افراد کو ساحلی راستے سے نئے مرکز کی جانب لے جایا گیا۔
مرکز میں داخلے کے لیے افراد کو تقریباً 100،100 کے گروپوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ ان کی شناخت اور رجسٹریشن منظم انداز میں کی جا سکے۔ اس دوران متعدد افراد نے جلدی داخل ہونے کی کوشش کی اور کچھ افراد پولیس کی قائم کردہ حفاظتی لائن توڑ کر آگے بڑھ گئے۔ پولیس کو صورتحال قابو میں کرنے اور ممکنہ بھگدڑ روکنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔ ای ایف ای کے مطابق اس دوران اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
کچھ ہی دیر میں صورتحال معمول پر آ گئی اور تارکینِ وطن سڑک پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔ ہر شخص کی شناخت اور رجسٹریشن کے بعد مرحلہ وار مرکز میں داخل کیا گیا۔
نیا عارضی مرکز مویلّے دے پونینتے کے علاقے میں قائم کیا گیا ہے، تاہم اس کی گنجائش موجودہ تعداد سے کافی کم ہے۔ حکومت دیگر مقامات پر بھی اضافی عارضی مراکز قائم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ مزید افراد کو رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ منتقلی اس وقت ہوئی جب قومی عدالت نے پولیس یونین ایس یو پی کی جانب سے کیمپ کے افتتاح کو روکنے کی فوری درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو پولیس اہلکاروں اور مرکز میں رہنے والے افراد دونوں کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات یقینی بنانا ہوں گے۔
