Screenshot
میڈرڈ/ ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے یونیورسٹیوں کے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے نئے تقاضے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت ایک نئے شاہی فرمان پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ہر ڈگری پروگرام میں کم از کم 50 فیصد اساتذہ کا ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنا ضروری ہوگا۔ اس وقت یہ شرط پوری یونیورسٹی کی مجموعی سطح پر لاگو ہوتی ہے۔
سانچیز نے میڈرڈ میں انسٹی ٹیوٹ آف میتھمیٹیکل سائنسز کے دورے کے دوران کہا کہ نئے ضوابط کا مقصد ہر ڈگری پروگرام میں معیاری یونیورسٹی تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔ مجوزہ قوانین کے مطابق 50 فیصد تدریسی عملہ ڈاکٹریٹ یافتہ ہوگا، جبکہ 40 فیصد اساتذہ کے پاس کل وقتی ملازمت کا معاہدہ ہونا ضروری ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تعلیمی معیار بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اساتذہ میں عارضی اور غیر محفوظ ملازمتوں کے مسئلے سے بھی نمٹنا چاہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ضروری ہو وہاں حضوری تعلیم کو لازمی بنایا جائے گا، خصوصاً طبی اور صحت کے شعبوں میں۔ سانچیز کے مطابق بعض نجی یونیورسٹیاں طلبہ کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن ڈگری پروگراموں میں توسیع کر رہی ہیں، تاہم حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ آن لائن تعلیم کی صورت میں بھی معیار اور ضروری عملی تربیت کے تقاضے پورے ہوں۔
حکومت گزشتہ سال نئی یونیورسٹیوں کے قیام اور منظوری کے لیے بھی قوانین سخت کر چکی ہے۔ سانچیز نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا مقصد صرف ڈگریاں جاری کرنا نہیں بلکہ معیاری تعلیم فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے سرکاری یونیورسٹیوں میں نشستوں کی کمی کو بھی نجی شعبے کی جانب طلبہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں سرکاری اداروں میں نشستیں کم ہونے سے داخلے کے لیے درکار نمبرز بڑھتے ہیں اور کئی طلبہ نجی یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔
نئے شاہی فرمان کی تیاری میں حکومت ہسپانوی یونیورسٹیوں کی کانفرنس آف ریکٹرز (CRUE) کے ساتھ مشاورت کرے گی۔
