Screenshot
لیریدا میں چھریوں، خنجروں اور لاٹھیوں کے ساتھ خونی لڑائی کے الزام میں سب سے پہلے گرفتار ہونیوالے کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس کی عمر24 سالہ ہے۔یہ خونی لڑائی پلاسا دے پیگا سوس پر ہوئی تھی اور چھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔پاکستانی ملزم کی گرفتاری لیریدا شہر میں ہی ہوئی جبکہ باقیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں اورپولیس اپنی آمد سے قبل فرار ہونے والے باقی شرکاء کی شناخت اور ان کا پتہ لگانے کے لیے چھاپے مارے گی۔جھگڑے میں شامل شرکاء کا تعلق کنسٹرکشن کے شعبے سے ہے اور وہ کام پر جانے کیلئے صبح سویرے گاڑیوں کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ تقریباً بیس افرادمیں کسی رہائش پر جھگڑا شروع ہوگیا پتہ چلا ہے ایک مکان احتشام نامی شخص کا تھا اور اس نے اپنے کسی جاننے والے کو دیا ہواتھا ۔اب اس نے مکان کی واپسی کا تقاضا کیا تو رہائش میں مقیم لوگوں نے صبح کو تاک لگا کر حملہ کیا اور چھریاں، تلوار نماءخنجراور لاٹھیاں لیکر بیٹھے ہوئے تھے۔مالک مکان احتشام خود بھی اس واقعے میں زخمی ہوا ہے اور اس کے کندھے پر تلوار کا وار کیا گیا تھا۔واقعے کے زخمیوں کو ارناؤ دےبلانووا ہسپتال منتقل کیا گیا اور ان کی مرہم پٹی کی گئی۔ چھ زخمیوں میں سے تین کو چاقو کے حملے سے اور باقی کو تصادم کے دوران چوٹوں کے زخم آئے ہیں اور سب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔اب تک جن تمام ملزمان کی شناخت ہوئی ہے وہ سب پاکستانی نژاد ہیں ۔پولیس موسس دے اسکوادرا اب لڑائی میں حصہ لینے والے باقی لوگوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوشاں ہے اور خاص طور پر ان کو جنہوں نے تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کی وجہ سے شدید زخم آئے۔جائے وقوعہ پر خون کے دھبےاور دیگر شواہد ملے ہیں۔لیریدا کے میئر نے پاکستانیوں کے تصادم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر تشدد سے اختلافات کو حل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے موسس کو ہدایت کی کہ وہ مجرمان کوجلد از جلد گرفتار کرے۔
