میڈرڈ/ اسپین کی سیاسی جماعت ووکس نے مرکزی انتخابی کمیشن (JEC) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اُن افراد کو 29 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی فہرست میں شامل نہ کرے جنہوں نے نام نہاد ’قانونِ پوتوں‘ (Ley de Nietos) کے تحت ہسپانوی شہریت حاصل کی ہے۔
ووکس کی جانب سے پیر کو مرکزی انتخابی کمیشن کو جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا عارضی حکم تاحال نافذ العمل ہے۔ اس حکم کے تحت ’قانونِ پوتوں‘ کے ذریعے ہسپانوی شہریت حاصل کرنے والے بیرونِ ملک مقیم افراد کے ووٹ دینے کے حق سے متعلق عمل کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کا مذکورہ حکم برقرار ہے، 29 نومبر کے انتخابات میں استعمال ہونے والی انتخابی فہرست میں ایسے افراد کو مؤثر حقِ رائے دہی کے ساتھ شامل نہیں کیا جانا چاہیے، چاہے وہ یکم اگست تک بیرونِ ملک مقیم ووٹرز کے انتخابی رجسٹر CERA میں باضابطہ طور پر درج ہو چکے ہوں۔
ووکس نے انتخابی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ CERA میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد، انتخابی فہرست کے حتمی طور پر بند ہونے کی قانونی تاریخ، اعداد و شمار مرتب کرنے کی تاریخ اور جواب جاری کرنے کی تاریخ سے متعلق معلومات فراہم کرے۔
اس کے علاوہ ووکس نے صوبے کے لحاظ سے انتخابی رجسٹریشن، متعلقہ افراد کے رہائشی ممالک اور ’قانونِ پوتوں‘ کے تحت شہریت حاصل کرنے والے CERA میں رجسٹرڈ افراد کی درست تعداد اور گمنام فہرست فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
پارٹی نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت متاثرہ افراد کے انتخابی حقوق کی معطلی کی باضابطہ تصدیق کی جائے۔ ووکس کے مطابق اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ’قانونِ پوتوں‘ کے تحت CERA میں شامل تمام افراد کو انتخابی فہرست میں اپنی معلومات کی درستی کے لیے قانونی حق استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسپین میں 29 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
