ملییا( 11 اکتوبر 2026دوست نیوز)اسپین کے خودمختار شہر ملییا کی مسلم کمیونٹی نے بادشاہ فلیپ ششم اور ملکہ لیتیزیا کی آئندہ آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شہر کے مسلمانوں اور شاہی خاندان کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کا اہم موقع قرار دیا ہے۔ دوسری جانب شہر کی تعلیمی یونینوں نے شاہی جوڑے کی آمد کے موقع پر 14 اکتوبر کو تعلیمی سرگرمیاں محدود کرنے اور تمام اسکولوں میں کلاسیں صبح 11 بجے کے بعد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملییا کی مسلم کمیونٹی نے شاہی محل کو ارسال کردہ خط میں بادشاہ فلیپ ششم اور ملکہ لیتیزیا کو شہر آمد پر خوش آمدید کہا ہے۔ کمیونٹی کے قانونی نمائندے محمد احمد موہ نے خط میں کہا کہ شاہی جوڑے کی موجودگی کو احترام، وفاداری اور اسپین سے گہری وابستگی کے جذبات کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
خط میں 2007ء میں اس وقت کے بادشاہ خوان کارلوس اول کے ملییا کے دورے کا بھی حوالہ دیا گیا، جب انہوں نے مسلم کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔ کمیونٹی کے مطابق اس ملاقات نے شاہی خاندان اور مقامی آبادی کے درمیان قربت کا پیغام دیا تھا، جس کی یاد آج بھی برقرار ہے۔
مسلم کمیونٹی نے ملیلا کی کثیرالثقافتی شناخت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان، عیسائی، یہودی اور ہندو نسلوں سے اس شہر میں باہمی احترام اور بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت رہتے آئے ہیں۔ کمیونٹی کو امید ہے کہ شاہی جوڑے کا دورہ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
دوسری جانب، ملییا کی غیر جامعاتی تعلیمی اداروں کی نمائندہ یونین نے وزارتِ تعلیم کے صوبائی دفتر سے مطالبہ کیا ہے کہ 14 اکتوبر کو تمام تعلیمی مراکز میں تدریسی سرگرمیاں صبح 11 بجے کے بعد ختم کر دی جائیں تاکہ اساتذہ شاہی جوڑے کے استقبال کی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔
تعلیمی یونین نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دورے کے بارے میں پہلے سے معلومات ہونے کے باوجود اسکولوں کو انتظامی فیصلوں کا اختیار آخری وقت میں دیا گیا، جس سے والدین، طلبہ اور اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یونین نے مطالبہ کیا کہ تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں ہدایات فوری جاری کی جائیں تاکہ طلبہ کی دیکھ بھال اور خاندانوں کے معمولات کو منظم رکھا جا سکے۔
