بارسلونا (12 اکتوبر 2026 دوست نیوز) اسپین میں سالمونیلا بیکٹیریا سے آلودہ انڈے کھانے کے باعث کم از کم 13 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گئے ہیں۔ متاثرہ انڈے اسپین میں تیار کیے گئے تھے اور ان کی ایک کھیپ پرتگال بھی بھیجی گئی تھی۔ حکام نے متاثرہ انڈوں کی کھیپ کو مارکیٹ سے واپس اٹھا لیا ہے۔
ہسپانوی حکام نے 8 اکتوبر کو یورپی یونین کے ریپڈ الرٹ سسٹم فار فوڈ اینڈ فیڈ (RASFF) کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔ یورپی فوڈ سیفٹی نیٹ ورک نے اس وبا کو ’’سنگین‘‘ قرار دیا ہے، جو اس نظام میں خطرے کی بلند ترین درجہ بندی ہے۔
اسپین کی ایجنسی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ نیوٹریشن (AESAN) نے تاحال متاثرہ افراد کی صحت کی صورتحال، بیماری کی شدت اور مارکیٹ سے واپس اٹھائے جانے والے انڈوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ایجنسی کی ویب سائٹ پر بھی فی الحال اس واقعے کا باقاعدہ انتباہ موجود نہیں ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ حکام کے مطابق متاثرہ کھیپ واپس اٹھانے کے اقدامات نئے واقعات کو روکنے کے لیے کافی ہیں۔
سالمونیلا انفیکشن کی علامات عموماً جراثیم جسم میں داخل ہونے کے 6 سے 72 گھنٹوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں اسہال، پیٹ میں درد، متلی، بار بار قے، بخار اور شدید نقاہت شامل ہیں۔ صحت مند افراد زیادہ تر چند دنوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم بزرگوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے یہ انفیکشن خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مرغیوں کے خوراک، پانی یا جنگلی جانوروں کے ذریعے سالمونیلا سے متاثر ہونے کا امکان رہتا ہے۔ بیکٹیریا مرغی کے جسم کے اندر انڈے بننے کے دوران منتقل ہو سکتا ہے یا انڈے کی بیرونی سطح کو آلودہ کر سکتا ہے۔
یورپ میں حفاظتی اقدامات، صفائی اور مرغیوں کی ویکسینیشن کے باوجود مرغیوں کے بڑے فارموں میں اس بیکٹیریا کے پھیلاؤ کا خطرہ برقرار ہے۔ گزشتہ جولائی میں امریکہ میں بھی سالمونیلا کے باعث تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ انڈے واپس منگوائے گئے تھے۔
