میڈرڈ(دوست نیوز) اسپین میں مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، کرایوں اور رہائش کی عدم دستیابی سے متعلق عوامی تشویش میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ مرکز برائے سماجی تحقیق (CIS) کے اکتوبر 2026 کے تازہ سروے کے مطابق، رہائش کا مسئلہ 18.2 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پہلی مرتبہ 55 فیصد سے زیادہ شہریوں نے اسے اپنی بنیادی تشویش قرار دیا ہے۔
یورپا پریس کے مطابق، یہ سروے یکم سے 6 اکتوبر کے دوران کیا گیا، جو میڈرڈ کی 87 سالہ خاتون ماری کارمین اباسکال کی بے دخلی کے بعد پہلا سروے ہے۔ وہ تقریباً 70 برس سے ایک کرائے کے مکان میں رہ رہی تھیں۔ انہیں گھر سے اسٹریچر پر نکالا گیا اور دو ہفتے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد اسپین کے مختلف شہروں میں رہائش کے بحران کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوئے، جنہیں ملک میں رہائش کے مسئلے پر اب تک کی بڑی عوامی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سروے کے مطابق، 55.7 فیصد افراد نے رہائش کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ امیگریشن 20.9 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئی، جبکہ اقتصادی بحران 20.3 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
رہائش کا مسئلہ مسلسل 21 ماہ سے اسپین کے اہم ترین قومی مسائل میں سرفہرست ہے۔ دسمبر 2024 میں اسے 22.3 فیصد افراد نے اہم مسئلہ قرار دیا تھا، جبکہ مئی 2026 میں یہ شرح 48.8 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
ملازمتوں کے معیار سے متعلق تشویش بھی بڑھ کر ریکارڈ 19.4 فیصد ہوگئی ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں پر تنقید 15.1 فیصد، صحت کے مسائل 14.4 فیصد، سیاسی مسائل 10.1 فیصد، بے روزگاری 9.6 فیصد اور تعلیم 8.7 فیصد شہریوں کے لیے اہم مسائل ہیں۔
سروے میں 82.3 فیصد افراد نے اس بات کی حمایت کی کہ رہائش کو آئینی حق کے طور پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ ماری کارمین کی بے دخلی کے معاملے پر نظر رکھنے والوں میں 57.1 فیصد کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں کمزور اور ضرورت مند افراد کا تحفظ مقدم ہونا چاہیے، جبکہ 32.7 فیصد نے قانون اور معاہدوں پر عمل درآمد کو ترجیح دی۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ رہائشی اقدامات کو مجموعی طور پر 57.2 فیصد افراد نے مثبت قرار دیا، جبکہ 42.3 فیصد نے ان پر تنقید کی۔ محفوظ اور کم قیمت رہائش کی تعمیر پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (IVA) کو 4 فیصد کرنے کی تجویز کو 95.1 فیصد اور پہلی مرتبہ مکان خریدنے کے لیے 50 ہزار یورو کی کریڈٹ سہولت کو 87.9 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔
کرایہ داروں اور ان مالکان کے لیے ٹیکس میں کمی کی حمایت 81.4 فیصد رہی جو کرایوں میں کمی کریں یا انہیں منجمد رکھیں۔ سیاحتی اپارٹمنٹس پر 10 فیصد عمومی ٹیکس کی تجویز کو 75 فیصد افراد نے حمایت دی۔
بڑے سرمایہ کاروں اور نام نہاد ’’وَلچر فنڈز‘‘ کے لیے 2028 تک مکانات خریدنے پر پابندی کی حمایت 67 فیصد رہی۔ کمزور افراد کی بے دخلی پر پابندی اور موسمی و کمروں کے کرایوں کے ضوابط سخت کرنے کے اقدامات کو بھی تقریباً 65 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔
تاہم، کرایوں میں خودکار اور غیر معینہ مدت تک توسیع کی تجویز سب سے زیادہ متنازع ثابت ہوئی، جس کی 52 فیصد افراد نے مخالفت کی۔ دوسری جانب، تقریباً 48 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ رہائش تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مرکزی حکومت کو زیادہ اختیارات دیے جانے چاہییں۔
