بارسلونا(دوست نیوز)اسپین کے شہر بارسلونا میں بدھ کے روز ایک ہزار سے زائد کسانوں اور تقریباً 200 ٹریکٹروں نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور زرعی شعبے کو درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث زراعت کا شعبہ شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
یہ مظاہرہ کسانوں کی تنظیم یونیو دے پاجیسوس (Unió de Pagesos) کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ تنظیم نے زرعی ڈیزل کے لیے خصوصی رعایتی نرخ مقرر کرنے، کسانوں کو ان کی پیداوار کی منصفانہ قیمت دلانے اور زرعی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
تنظیم کی قومی رابطہ کار راکیل سیرات نے کہا کہ پیشہ ورانہ زراعت کو ملک کے لیے ایک بنیادی اور اسٹریٹجک شعبہ تسلیم کرتے ہوئے مستقل نوعیت کے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے حکومت کے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
کسانوں کے مطابق، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، شدید موسمی حالات اور زرعی پیداوار کی کم قیمتیں کھیتوں اور زرعی کاروباروں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی کاروباروں کی بندش اور نوجوانوں کی جانب سے اس پیشے میں کم دلچسپی بھی مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔
کسانوں کی تنظیم نے کاتالونیا میں ہسپانوی حکومت کے نمائندہ دفتر کے باہر پیش کیے گئے مطالباتی اعلامیے میں موسمیاتی نقصانات، بڑھتے اخراجات یا کم قیمتوں سے متاثرہ کھیتوں کے لیے 8,500 سے 17,000 یورو تک ہنگامی مالی امداد دینے کی تجویز پیش کی۔
دیگر مطالبات میں زرعی پیداوار پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) میں کمی، آبپاشی کے لیے بجلی کے نرخ گھٹانا، سرکاری کارروائیوں میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنا اور غذائی سپلائی چین کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا شامل ہیں، تاکہ کسانوں کو اپنی پیداوار لاگت سے کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
مظاہرین ٹریکٹروں، بسوں اور گاڑیوں کے ذریعے کاتالونیا کے مختلف علاقوں سے بارسلونا پہنچے اور شہر کے مرکزی حصوں میں احتجاج کیا۔
