میڈرڈ( 14 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنی جماعت سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کی میڈرڈ سے انتخابی فہرست میں وزیرِ دفاع مارگریتا روبلس کو دوسرے نمبر پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روبلس اس سے قبل 2016ء کے عام انتخابات میں بھی اسی مقام پر رہ چکی ہیں۔ اس فیصلے کو سانچیز کی جانب سے وزیرِ دفاع پر اعتماد کے اظہار اور پارٹی میں ان کی پوزیشن مضبوط کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
روبلس کو حالیہ مہینوں میں بعض سوشلسٹ رہنماؤں اور وزرا کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ تنازع سیوتا میں مہاجرین کے بحران کے دوران قومی انٹیلی جنس مرکز (CNI) کے کردار کے دفاع کے بعد سامنے آیا۔ اگست میں روبلس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے نے ممکنہ بحران کے بارے میں خبردار کیا تھا، جبکہ وزیرِ داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا اور حکومت کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا تھا۔
29 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے پی ایس او ای کی فہرستوں میں مجموعی طور پر 11 وزرا شامل ہوں گے۔ وزیرِ صدارت فیلکس بولانیوس میڈرڈ سے تیسرے نمبر پر ہوں گے، جبکہ وزیرِ خارجہ خوسے مینوئل الباریس اور وزیرِ داخلہ گراندے مارلاسکا کی انتخابی پوزیشنوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مارلاسکا اب میڈرڈ سے پانچویں نمبر پر انتخاب لڑیں گے۔ پارٹی کو امید ہے کہ جبرالٹر سے متعلق جولائی میں ہونے والے معاہدے سے حاصل ہونے والے فوائد انتخابی حمایت بڑھانے میں مدد دیں گے۔
بارسلونا سے وزیرِ صنعت جوردی ایریو، جبکہ بلدولید سے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے امیدوار ہوں گے۔ وزیرِ مساوات آنا ریدوندو بھی بلدولید کی فہرست میں شامل ہیں۔ ویلینسیا میں پارٹی پیلر برنابے، وزیرِ خزانہ آرکادی اسپانیا اور ربیسا تورو پر انحصار کرے گی۔ کانگریس کی صدر فرانسینا آرمینگول بھی بالیئرک جزائر سے دوبارہ امیدوار ہوں گی۔
دوسری جانب، وزرا آسکر لوپیز، اینخل وکتر تورّیس اور دیانا مورانت علاقائی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قومی انتخابی فہرستوں سے الگ ہو چکے ہیں۔ وزیرِ زراعت لوئیس پلاناس اور نائب وزیرِاعظم کارلوس کُیئرپو نے بھی عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کاستیلا لا مانچا میں وزیرِ تعلیم ملاگروس تولون کو تولیدو سے پہلے نمبر پر رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جسے پارٹی قیادت اور علاقائی رہنماؤں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پی ایس او ای کی مختلف علاقائی تنظیمیں اپنی امیدواروں کی فہرستوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں، جن کی منظوری جمعے کو وفاقی انتخابی کمیشن اور ہفتے کو پارٹی کی وفاقی کمیٹی دے گی۔
