میڈرڈ( 14 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز ملکی سینیٹ میں اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کی معطلی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک عارضی اور معمول کے مطابق استعمال ہونے والا اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔
میلونی نے یکم اگست کو اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت سرحدی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سیوتا میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں ضروری تھا۔ ان کے مطابق، اٹلی کی سرحدوں کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دوسرے ممالک کے لیے اپنی سرحدوں کا دفاع۔
انہوں نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ قبول نہیں کہ سرحدوں کے دفاع کو بعض ممالک کا حق سمجھا جائے، لیکن جب اٹلی اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے تو اسے غلط قرار دیا جائے۔
اطالوی وزیراعظم نے اس معاملے پر پیدا ہونے والے سیاسی تنازعے کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ اپوزیشن اٹلی کی سرحدوں اور سیکیورٹی کے تحفظ کے بجائے ہسپانوی حکومت کا دفاع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا یہ تبصرہ بالخصوص ڈیموکریٹک پارٹی، جس کی قیادت ایلی شلین کرتی ہیں، کی جانب اشارہ تھا۔ یہ جماعت اسپین کی حکمران سوشلسٹ پارٹی کی روایتی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔
اٹلی کی حکومت نے 30 ستمبر کو اسپین کے ساتھ سرحدی کنٹرول میں مزید 15 روز کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جولائی کے آخر میں سیوتا میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد جن حالات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا، وہ اب بھی برقرار ہیں۔
میلونی کے مطابق، شینگن ضابطہ رکن ممالک کو امنِ عامہ یا سیکیورٹی کے خدشات کی صورت میں عارضی طور پر اندرونی سرحدی کنٹرول بحال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2006 سے اب تک یورپی یونین کے رکن ممالک اس طریقۂ کار کو تقریباً 500 مرتبہ استعمال کر چکے ہیں، جبکہ 30 مواقع پر اٹلی بھی ان اقدامات سے متاثر ہوا۔ ان کے بقول، فرانس نے بھی اٹلی کے ساتھ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک سرحدی کنٹرول برقرار رکھا ہے۔
میلونی نے نتیجہ اخذ کیا کہ اٹلی کو بھی وہی قانونی اختیار حاصل ہے جو دوسرے یورپی ممالک استعمال کرتے رہے ہیں۔
