میڈرڈ( 15 اکتوبر 2026 دوست نیوز) چھاتی کی خوب صورتی اور حجم میں اضافے کے لیے استعمال ہونے والے بریسٹ امپلانٹس کے بارے میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ انہیں ہر دس سال بعد لازمی طور پر تبدیل کرانا چاہیے، تاہم ہسپانوی ماہرین کے مطابق اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اگر امپلانٹ صحیح حالت میں ہو اور کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہوئی ہو تو صرف دس سال مکمل ہونے کی وجہ سے اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں۔
اسپین کی سوسائٹی آف پلاسٹک، ایس تھیٹک اینڈ ری کنسٹرکٹو سرجری (SECPRE) کے نائب صدر برائے جمالیاتی سرجری اور نجی صحت، ڈاکٹر خوسے اینخل لوزانو اوریا کے مطابق، جدید سلیکون امپلانٹس کی کوئی مقررہ میعادِ ختم نہیں ہوتی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ زندگی بھر برقرار رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بیرونی تہہ کمزور ہوسکتی ہے اور اندر موجود مواد میں بھی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پہلی وجہ کیپسولر کنٹریکچر ہے، جس میں امپلانٹ کے گرد بننے والا داغ دار ٹشو موٹا اور سخت ہوجاتا ہے۔ اس سے چھاتی میں درد، سختی، حرکت میں کمی اور شکل میں تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔
دوسری وجہ امپلانٹ کا پھٹ جانا ہے۔ بعض صورتوں میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور مسئلے کی تشخیص صرف طبی تصویری معائنے کے ذریعے ہوتی ہے۔ کبھی کبھار سلیکون قریبی ٹشوز یا بغل کے لمف نوڈز تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
تیسری وجہ چھاتی کی قدرتی ساخت میں تبدیلی ہے۔ عمر بڑھنے، حمل، وزن میں اتار چڑھاؤ اور جلد کی تبدیلیوں سے چھاتی کی شکل اور پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔
چوتھی وجہ مریضہ کی اپنی جمالیاتی ترجیحات میں تبدیلی ہے، مثلاً امپلانٹ کا حجم یا شکل تبدیل کرانے کی خواہش۔
ماہرین کے مطابق چھاتی میں مسلسل یا پھیلا ہوا درد، سختی، اچانک ظاہری تبدیلی یا بغل میں نئی گانٹھ محسوس ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ امپلانٹ پھٹنے کی صورت میں ہمیشہ واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مناسب طبی معائنہ اہم ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ امپلانٹس کی تبدیلی کا فیصلہ صرف مدت گزرنے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی حالت، علامات، طبی معائنے اور مریضہ کی ضروریات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
