بارسلونا(دوست نیوز)راجہ مشرف،مظہرحسین راجہ،راجہ شفیق الرحمن اور راجہ ساجد کی جانب سے معروف سماجی شخصیت اسپانش ایوارڈ یافتہ عمران ملک کے اعزاز میں خان نواب ریسٹورنٹ بادالونا میں “ایک شام عمران ملک کے نام “کے نام سجائی گئی۔جس میں قریبی دوستوں ،کمیونٹی شخصیات اور دیگر ایوارڈ یافتگان نے شرکت کی

“ایک شام عمران ملک کے نام“کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول ﷺسے ہوا جس کی سعادت میاں عاصم اور مظہر حسین راجہ نے حاصل کی،قدیراے خان نے صوفیانہ کلام سنایا ،اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راجہ ساجد نے احسن انداز میں سرانجام دئیے
راجہ مشرف ،راجہ مظہر حسین ،راجہ شفیق الرحمن،حافظ احمد،چوہدری شہباز احمد کھٹانہ،طاہر رفیع ،جاوید مغل اور ڈاکٹرقمرفاروق نے عمران ملک کی اپنی کمیونٹی کے لئے دی گئی خدمات اور ماضی کی خوبصورت یادوں کا تذکرہ کیا۔

مقررین نے عمران ملک کی مسلسل تگ ودو اور محنت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اپنے مقصد میں کامیابی چاہتا ہے تو اس میں خلوص اور لگن کا ہونا لازمی امر ہے اور عمران ملک نے خلوص کے ساتھ اجتماعی مفاد میں کام کیا جس کا نیتجہ حکومت اسپین کی جانب سے نیشنل پولیس کی سالانہ تقریب میں نیشنل پولیس کی 200سالہ تاریخ میں تیسرا شخص ہے جسے یہ ایوارڈ دیا گیا ہے،مقررین نے کہا کہ عمران ملک نے کئی ایک میدانوں میں کامیابی کے ساتھ سفر کیا ہے جس میں مقامی معاشرہ میں انضمام کے لئے اردو اسپانش کتاب کی اشاعت ایک اہم کارنامہ ہے۔مختلف اداروں کے ساتھ مترجم کے فرائض سرانجام دینا ناصرف اپنے لوگوں کی خدمت تھی بلکہ اس سے دومعاشروں کو ایک دوسرے کو قریب سے جاننے کا موقع بھی ملا۔کئی اداروں میں آج بھی جب کسی اردو جاننے والے کو کوئی ہدایت نامہ دیا جاتا ہے وہ عمران ملک کا اسپانش سے اردو میں ترجمہ شدہ ہوتا ہے۔کرکٹ کو اسپین میں متعارف کرانے اور اسے کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں عمران ملک اور اس کے کلب کو اہمیت حاصل ہے آج کرکٹ پر فلم تکمیل کے مراحل میں ہے تو اس میں بڑا کردار عمران ملک کا ہے جس سے اسپین کے پردہ اسکرین پر ایشائی ممالک کے کھیل کرکٹ ،معاشرت اور لوگوں کے بارے میں جاننے کا بہترین موقع ہوگا

ہال میں موجود تمام دوست احباب نے عمران ملک کو اسپانش ایوارڈ ملنے کی دلی مبارک باد دی اور مزید کامیابیوں کے لئے دعا کی
عمران ملک نے اپنے خطاب میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی محبت اور خلوص ہے جو آپ نے میرے اعزاز میں ایک شام کا اہتمام کیا۔انہوں نے ریڈیو پاکسلونا کے دور کو یاد کرتے ہوئے راجہ شفیق الرحمن کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ میرے یہاں پہلے استاد ہیں جنہوں نے مجھے انگلی پکڑ کر آگے بڑھنا سیکھایا۔عمران ملک نے ریڈیو پاکسلونا کے دیگر ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے یادوں کو تازہ کیا۔

عمران ملک نے اپنے آدھے گھنٹہ سے زائد کے خطاب میں انہوں نے اپنی زندگی ،کامیابیوں اور مختلف ایوارڈز جو انہیں ملے کا مفصل تذکرہ کیا۔انہوں موجودہ دور میں بارسلونا اسپین میں مقیم پاکستانیوں کے خانگی مسائل پر بھی کھل کر گفتگو کی اور کئی ایک مثالوں سے سمجھایا کہ ہم کس طرح اپنے مذہب پر عمل کر کے اس معاشرہ میں مفید شہری بن سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ دو تین لوگوں کے درمیان شکست مان لینا اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جانا زیادہ بہتر ہے ناکہ مقامی میڈیا اور معاشرے میں ناصرف آپ کو بلکہ پوری کمیونٹی کو خفت اٹھانی پڑے

عمران ملک نے کہا کہ ہمیں جب ایوارڈز یا انعامات ملتے ہیں تو ہمیں جس محنت سے یہ ایوارڈز ملتے ہیں اس محنت کو فخر سے بیان بھی کرنا چاہئیے ناکہ آپ کے پاس بیان کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تو پھر معاشرہ ایسے ایوارڈز اور انعامات پر سوال اٹھاتا ہے۔
عمران ملک نے ایک بار پھر اپنے میزبانوں اور تمام دوست احباب کا شکریہ ادا کیا اور ملنےوالے اسپانش ایوارڈ کے ساتھ دوستوں کے تصاویر بھی بنوائیں
