میڈرڈ( 14 اکتوبر 2026 دوست نیوز) اسپین کی دو بڑی مزدور تنظیموں، CCOO اور UGT نے بدھ کے روز میڈرڈ میں تعلیمی ہڑتال کے سلسلے میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر شدید اعتراض کرتے ہوئے وزیر داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ دونوں یونینوں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو ’’جبر‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی وجوہات اور پولیس کی تعیناتی کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
مزدور تنظیموں کے مطابق، مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر دھاوا بولنے اور طاقت استعمال کرنے کی تصاویر ایک ایسے جمہوری نظام کے شایانِ شان نہیں ہیں جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ احتجاج اور مظاہرے کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنا شہریوں کا جائز حق ہے، اس لیے ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو ان حقوق کو محدود کریں۔
CCOO اور UGT نے اپنے مشترکہ مؤقف میں کہا کہ موجودہ حالات میں، جب ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی تحریکیں اور سماجی تنازعات جاری ہیں، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہڑتال کے حق، اجتماع کی آزادی، آزادیٔ اظہار اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔
دونوں تنظیموں نے مختلف سرکاری اداروں اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنیں۔ ان کے مطابق، عوامی احتجاج کا جواب طاقت سے دینے کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
یونینوں نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مظاہروں میں شریک افراد کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب شہریوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال دن کی سب سے نمایاں خبر نہیں بننا چاہیے۔
دوسری جانب، ہسپانوی قومی پولیس نے میڈرڈ کی کمپلوتینسے یونیورسٹی میں سرکاری تعلیم کے حق میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق، گرفتار افراد پر سرکاری اہلکار کے خلاف جرم کے ارتکاب کا الزام ہے۔ مظاہرے کے دوران پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے خلاف کارروائی بھی کرنا پڑی۔
یاد رہے کہ CCOO اور UGT نے پولیس کارروائی پر تفصیلی وضاحت اور ذمہ دار اداروں سے جواب طلب کرتے ہوئے شہری آزادیوں اور احتجاج کے حق کے احترام پر زور دیا ہے۔
