بارسلونا اور بیت لحم کے درمیان تعاون کا نیا معاہدہ
Screenshot
بارسلونا نے فلسطین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر دیے ہیں۔ ہفتے کے روز بارسلونا کے میئر جاؤما کولبونی اور بیت لحم کے میئر ماہر کناواتی نے سانتس مونتجؤک میں بین الاقوامی تعاون کا ایک نیا معاہدہ دستخط کیا۔ یہ معاہدہ حال ہی میں قائم کیے گئے ڈسٹرکٹ 11: فلسطینی شہروں کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد فلسطینی شہروں کے ساتھ تکنیکی، شہری اور اقتصادی روابط کو بڑھانا ہے۔
تقریب کے دوران کولبونی نے کہا کہ بارسلونا “فلسطینی شہروں کے ساتھ مل کر ڈسٹرکٹ 11 کے دائرہ کار کو عملی منصوبوں کے ذریعے مزید وسیع کر رہا ہے“۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے مہینوں میں شہر نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا جو جذبہ دکھایا، اب وہ عملی مدد اور پیشہ ورانہ تعاون میں تبدیل ہو رہا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تعاون کیا جا سکے۔

بیت لحم کے میئر کناواتی نے بارسلونا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہر نے “انسانیت کے لیے بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے“ اور یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ بارسلونا بیت لحم کے ساتھ اس مرحلے میں کھڑا ہے۔
معاہدے میں شہری منصوبہ بندی، عوامی مقامات کی بہتری، سبز علاقوں، اسمارٹ سٹی اقدامات، سیاحت اور اختراع کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ ثقافتی، تعلیمی اور کھیلوں کے منصوبے بھی اس کا حصہ ہیں، جن میں خواتین اور نوجوان خاص طور پر ٹارگٹ ہوں گے۔
معاہدے کے تحت 2026 سے 2027 کے درمیان بیت لحم میں ایک نیا اقتصادی مرکز قائم کیا جائے گا، جہاں نوجوانوں اور خواتین کی اسٹارٹ اپس اور نئی کمپنیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ بارسلونا ایکتیوا اس منصوبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

حال ہی میں میڈ سٹیز کی مدد سے “ریزیلینس“ نامی تربیتی پروگرام مکمل کیا گیا، جس میں بیت لحم کی 18 خواتین کاروباریوں نے شرکت کی۔ انہیں کاروباری انتظام، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، برانڈنگ اور ترقیاتی حکمت عملیوں پر تربیت دی گئی۔
ڈسٹرکٹ 11 فلسطین کے ساتھ تعاون میں ایک اہم قدم ہے۔ اس کے تحت شہری منصوبہ بندی، صحت، تعلیم، رسائی، تکنالوجی اور لچک (resilience) جیسے شعبوں میں مشترکہ پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ بارسلونا اور فلسطینی ماہرین مل کر فیلڈ میں اور شہر کے اندر مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اکتوبر میں قائم ہونے والی ایڈوائزری کمیٹی میں تقریباً 40 ادارے شامل ہیں، جن میں اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA، یونیورسٹی آف بارسلونا اور کاتالونیا کی فلسطینی کمیونٹی بھی شامل ہیں۔