نیدرلینڈز میں سینکڑوں ہسپانوی کارکنوں کا استحصال، یورپی کمیشن میں شکایت
برسلز: نیدرلینڈز کی ایک رکنِ یورپی پارلیمنٹ نے یورپی کمیشن کے سامنے اپنے ملک میں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ مزدورانہ استحصال کا معاملہ اٹھایا ہے، جن میں بڑی تعداد اسپین سے آنے والے مزدوروں کی بھی شامل ہے۔
نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی سوشلسٹ گروپ کی یورپی پارلیمنٹ کی رکن ماریٹ مائیخ کے مطابق، ان کے ملک میں دسیوں ہزار غیر ملکی کارکن ایسے حالات میں کام کر رہے ہیں جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ استحصال زیادہ تر عارضی ملازمت فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے ہو رہا ہے، جو مستقل روزگار کے وعدے تو کرتی ہیں لیکن حقیقت میں گھنٹوں پر مشتمل عارضی معاہدے دیتی ہیں۔
کچھ معاملات میں ان کارکنوں کی تنخواہوں سے رہائش کے اخراجات براہِ راست کاٹ لیے جاتے ہیں اور انہیں ایسی جگہوں پر رکھا جاتا ہے جہاں حالات بعض اوقات نہایت خراب ہوتے ہیں۔
ماریٹ مائیخ نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق پورے نیدرلینڈز میں اس طرح کی تقریباً 20 ہزار ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ان کے شہر دی ہیگ میں، جہاں آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے، وہاں تقریباً پندرہ سو عارضی ملازمت کی ایجنسیاں موجود ہیں۔ ان کے بقول، “آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں سے اکثر صرف تیزی سے پیسہ کمانے کے لیے ہیں۔”
یورپی رکن کا کہنا ہے کہ یہ استحصالی نظام متعدد ایجنسیوں کے سہارے چل رہا ہے اور یہ مسئلہ صرف یورپی یونین سے باہر سے آنے والے مزدوروں تک محدود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپین ایک خوشحال ملک ہے، اس کے باوجود وہاں سے آنے والے بعض افراد نیدرلینڈز میں کام اور رہائش کے دوران انہی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جو ان کے خیال میں ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔
ماریٹ مائیخ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ یورپی سطح پر لیبر انسپیکشن کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی مؤثر نگرانی اور روک تھام ممکن ہو سکے۔