کاتالان حکومت اور سماجی اداروں کی جانب سے بے دخل تارکینِ وطن کے لیے عارضی پناہ کا انتظام

Screenshot

Screenshot

بادالونا(دوست مانیٹرنگ ڈیسک) کاتالان حکومت نے چند سماجی اداروں کے تعاون سے بادالونا کے پرانے بی نائن (B9) ہائی اسکول سے بے دخل کیے گئے بعض تارکینِ وطن کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کر لیا ہے۔ ان اداروں میں مذہبی تنظیم کاریتاس، ریڈ کراس اور دیگر مقامی فلاحی ادارے شامل ہیں۔

محکمہ سماجی حقوق کے مطابق، بے دخلی کے بعد سڑکوں پر رات گزارنے والے بعض افراد کو آئندہ چند دنوں میں رات آٹھ بجے سے صبح نو بجے تک پناہ اور بستر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ سہولت اتوار کی رات سے شروع ہوگی۔ حکام نے ہفتے کے روز یہ طے کیا کہ ہنگامی امداد کے لیے کن افراد کو زیادہ مستحق سمجھا جائے، خاص طور پر اس ہفتے بادالونا میں شدید موسمی حالات اور دو دن کی موسلا دھار بارش کے پیش نظر۔

یہ عارضی حل کاتالان حکومت اور بادالونا میں سرگرم کئی سماجی تنظیموں کے درمیان طے پایا، جن میں کاریتاس، ریڈ کراس، سانت جوان دے دیو اسپتال کی سماجی خدمات اور لیگات روکا ای پی فاؤنڈیشن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، بائیں بازو کی جماعت CUP سے وابستہ کمیونٹی سینٹر کاسال انتونی سالا ای پونت بھی ہفتے سے چند راتوں کے لیے تقریباً 15 تارکینِ وطن کو پناہ دے گا۔

بادالونا کے میئر ژاویئر گارسیا البیول، جو غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں، اس ہفتے بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ بے دخل افراد کے لیے رہائش کا بندوبست نہیں کریں گے۔ تاہم اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ وہ کاتالان حکومت کی جانب سے کی گئی اس کوشش کا احترام کرتے ہیں، جس کا مقصد ان افراد کو عارضی پناہ فراہم کرنا ہے جو کئی دنوں سے سڑکوں پر خیمہ زن ہیں۔

میئر نے اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ “غیر قانونی قبضوں کو معمول کا حصہ نہ بنایا جائے”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے دخل کیے گئے بعض افراد نے مقامی سماجی خدمات کی پیش کردہ امداد قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے