خدارا اس ظلم کو رکوائیے۔مظہر حسین راجہ
Screenshot
اسلام آباد میں اسپین ایمبیسی کی اپوائنٹمنٹ اور رشوت ستانی کے بڑے چیلنج سے نپٹنے کے لیے پوری پاکستانی کمیونٹی کو متحد ہو کر درست چینل استعمال کرنا چاہیے اور کسی بھی پاکستانی متعلقہ گورنمنٹ افیسر یا سیاستدان کو یہ کہہ کر جان چھڑانے کا کوئی حق نہیں کہ یہ سپین ایمبیسی کا مسئلہ ہے اور سپینش گورنمنٹ حل کرے گی۔ ہمیں بیک زبان ہو کر کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، پاکستانی عوام کا مسئلہ ہے، پاکستان کی سرزمین پر مسئلہ ہے ، پاکستان کے دارالحکومت میں مسئلہ ہے اور پاکستانی گورنمنٹ ہی کی ذمہ داری ہے کہ اسے حل کرے۔ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ریاست کے ہزاروں بچے چیخ و پکار کر رہے ہیں لیکن ماں بالکل خاموش ہے ,کیوں؟ ریاست کے پاس بہت سے ذرائع ہوتے ہیں، پاکستان کے وزیر خارجہ ،اسپین کے وزیر خارجہ سے بات کر سکتے ہیں۔ اور میڈرڈ میں موجود پاکستانی سفیر محترم سپین کے ہر متعلقہ با اختیار افیسر کو لکھ بھی سکتے ہیں اور بات کر سکتے ہیں ۔ ہمارے ایم این ایز قومی اسمبلی میں سوال اٹھا سکتے ہیں جب کہ قومی اسمبلی میں وزارت خارجہ کی سٹینڈنگ کمیٹی سب اداروں کو بلا کر رپورٹ طلب کر سکتی ہے۔ سب ارباب اختیار کو متحرک کرنے کے لیے اوورسیز کے نمائندے درج ذیل پوائنٹس کو لے کر اگے چلیں:-
1- یہ ایک دردناک اور پر آشوب مسئلہ ہے اور میری ناقص راۓ میں اس کا حل اسپین کی بجاۓ پاکستان میں موجود ہےاور وہاں ہی تلاش کرنا چاہیے۔
2- اسپین میں موجود کمیونٹی کو بالعموم اور بارسلونا میں رہنے والے افراد کو بالخصوص اس مسئلہ کو پوری قوت سے وزراتِ خارجہ ، اسلام آباد میں محترم ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار کے سامنے پیش کرنا چاہیے ، جو حضرات بھی ان سے ملاقات کرسکیں ، تمام دستاویزی ثبوت پیش کریں، متاثرہ خواتین اور حضرات اگر ملاقات میں موجود ہوں تو بہت بہتر ہوگا۔ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کسی بھی متاثرہ فرد کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہ ہو۔
3- اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا جاۓ۔
4-وزیرِ داخلہ محترم محسن نقوی سے ملاقات میں اس بات پرزور دیا جاۓ کہ پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی مدد سےاس مافیہ کو جڑ سے اکھاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاۓ۔ اس مافیہ کے اراکین اپنی ان مذموم حرکتوں سے ملک ِ پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا رہےہیں ۔ قیمتی زرِمبادلہ جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے ان ظالموں کی وجہ سے رائیگاں جارہاہے۔
5.اس مافیہ میں ہمارے ہم وطن ہی شامل ہیں اور کسی بھی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔
6-پاکستانی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو بارسلونا میں مقیم ہیں، اپنے سیاسی اکابرین سے رابطے کریں ، ان کی توجہ مبذول کرائیں اور ان کی مدد حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاۓ۔
7-پارلیمان میں توجہ دلاؤ نوٹس میں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے ۔
8-اسپین کی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حضرات اس ظلم اور زیادتی کی طرف انُکی توجہ دلائیں کہ بد انتظامی پورے ملک اور خصوصی طور پر ہسپانوی سفارت خانہ کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ ۸- مختلف تنظیمات اپنے اپنے پلیٹ فارم سے قونصل جنرل اور عزت ماب محترم سفیر صاحب سے ملاقات کریں تاکہ وہ اپنے منصب اور آفس کا استعمال کرتے ہوۓ ہسپانوی اور پاکستانی احباب اقتدار سے اس مسئلہ کا برحق فیصلہ کرائیں۔
9- وہ تمام تنظیمات جو پاکستان فیڈریشن کا حصہ نہیں ہیں اپنے طور پر پاکستانی تارکینِ وطن کی مدد اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ آگے آئیں اور ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔
10- یہ مسئلہ پوری کمیونٹی کاہے اور اس کا مناسب اور جلد حل ہماری کمیونٹی کے لیے عزت کا باعث بنے گا۔ تمام فیڈریشنز و تنظیمات خواب خرگوش سے جاگیں اور عرصہ دراز سے اٹکا ہوا یہ مسئلہ جلد حل کروائیں، غریب لوگوں سے لاکھوں روپے رشوت کے طور پر وصول کیے جا رہیے ہیں جو انتہائی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور اوورسیز کی فیملیز کی توہین ہے جبکہ اوورسیز کے نمائندوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔