امریکا نے بمباری کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا

WhatsApp Image 2026-01-03 at 13.03.46

ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں اور فوجی طیاروں کی پروازوں نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا، جب امریکا کے حکم پر فضائی حملے کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے بنائی گئی متعدد ویڈیوز گردش کرنے لگیں، جن میں آسمان پر روشنی کے شعلے، دھوئیں کے بادل اور زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، خاص طور پر دارالحکومت کراکس اور اس کے نواحی علاقوں میں۔

مناظر میں اسٹریٹجک اور فوجی تنصیبات کے قریب حملوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، جن میں ملک کا سب سے بڑا فوجی کمپلیکس فورٹ ٹیوٴنا، لا کارلوٹا ایئر بیس اور ساحلی پٹی لا گوئیرا کے مختلف مقامات شامل ہیں۔ بعض ویڈیوز میں فضائی دفاعی نظام کی آوازیں اور کم بلندی پر پرواز کرتے طیارے بھی نظر آتے ہیں، جو حالیہ برسوں میں کراکس کے لیے ایک غیر معمولی منظر ہے۔

نکولس مادورو کی حکومت نے ان حملوں کو “انتہائی سنگین فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں بیرونی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جو ایمرجنسی کے مترادف ہے، اور مسلح افواج و پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی نے عالمی برادری کو حیران کر دیا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ عام شہریوں پر ممکنہ اثرات اور تنازع کے پھیلنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو “گرفتار” کر لیا گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے