سردیوں میں معمول سے پہلے نیند کاآنا کیوں؟ کیا اس کی سائنسی وجہ موجود ہے؟۔تحریر۔۔اینتونی ماتیو
Screenshot
کیا آپ بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ سردیوں میں نیند جلد آنے لگتی ہے؟ اسپین میں گرمیوں کے موسم میں دن کا دورانیہ 15 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں سب سے چھوٹا دن بمشکل 9 گھنٹے کا ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے وضاحت کی ہے کہ روشنی کی اس کمی کا ہمارے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔
سردیوں کا موسم سردی، بارش اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث جانا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سورج کی روشنی میں واضح کمی بھی ایک اہم حقیقت ہے، خاص طور پر دسمبر کے مہینے میں۔ یہ اندھیرا نہ صرف گھروں اور سڑکوں پر روشنی جلانے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ہمارے جسم پر قدرتی اثرات بھی ڈالتا ہے۔
سردیوں میں نیند ایک اہم موضوع بن جاتا ہے۔ کیا واقعی اس موسم میں ہمیں جلد نیند آنے لگتی ہے؟ کیا گرمیوں کے مقابلے میں ہم جلد سونے کی خواہش محسوس کرتے ہیں؟ اس حوالے سے جیرونا میں فیملی اور کمیونٹی میڈیسن کی ریزیڈنٹ ڈاکٹر مورالس بیبیلونی نے وضاحت کی ہے۔
کیا سردیوں میں واقعی نیند جلد آتی ہے؟
ڈاکٹر مورالس بیبیلونی کے مطابق صرف سردیوں کی وجہ سے نیند جلد آنا لازمی نہیں، بلکہ اس کا تعلق جسم میں میلٹونن ہارمون کی پیداوار سے ہے۔ میلٹونن ایک قدرتی ہارمون ہے جو عام طور پر اندھیرے میں پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات گولیوں کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ سردیوں میں دن چھوٹے ہو جاتے ہیں اور سورج کی روشنی جلد ختم ہو جاتی ہے، اس لیے جسم میں میلٹونن کی پیداوار پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جلد سونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔
سردی بھی ایک اہم عنصر
اندھیرے کے علاوہ سردی بھی سردیوں کا ایک اہم جزو ہے۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اسپین میں سردیاں ماضی کے مقابلے میں اوسطاً 1.3 سے 1.5 ڈگری زیادہ گرم ہو چکی ہیں، اور 2023-2024 کے دوران یہ اضافہ 1.9 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا، تاہم درجہ حرارت اب بھی بہار اور گرمیوں سے کم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مورالس بیبیلونی کے مطابق سردی کا ایک ضمنی کردار بھی ہے۔ جسم کو اپنی اندرونی حرارت برقرار رکھنے کے لیے اضافی توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے، چاہے ہمیں اس کا فوری احساس نہ ہو۔ اس توانائی کی تلافی کے لیے جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا ہم پوری نیند لے رہے ہیں؟
اگرچہ سردیوں میں نیند جلد آتی ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر لوگ مطلوبہ نیند پوری نہیں کر پاتے۔ اسپینش سوسائٹی آف نیورولوجی کے مطابق 50 فیصد سے کم آبادی وہ نیند لیتی ہے جو طبی طور پر تجویز کی جاتی ہے، جبکہ 40 لاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی دائمی اور شدید نیند کی بیماری میں مبتلا ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں اوسطاً لوگ 6.5 گھنٹے سوتے ہیں، جبکہ اسپینش سوسائٹی آف فیملی اینڈ کمیونٹی میڈیسن کے مطابق صحت مند نیند کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند ضروری ہے۔ اس کمی کو ماہرین نیند کی دائمی قلت قرار دیتے ہیں۔
کیا سردیاں زیادہ سونے کے لیے موزوں ہیں؟
ماہرین کے مطابق نیند کے اچھے معمولات کسی خاص موسم تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ احتیاطی سرگرمیوں اور صحت کے فروغ کے پروگرام (PAPPS) سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ اوقات، سونے سے پہلے الیکٹرانک آلات سے پرہیز اور کیفین یا الکحل کے استعمال میں کمی بنیادی اصول ہیں۔
ڈاکٹر مورالس بیبیلونی کا کہنا ہے کہ اگرچہ سردیوں میں اندھیرا جلد ہو جاتا ہے، لیکن پورا سال ایک منظم اور صحت مند نیند کا معمول برقرار رکھنا ضروری ہے۔