جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کے لیے دہری شہریت کی منظوری
Screenshot
پاکستان نے جرمنی میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے دہری شہریت کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب جرمنی میں مقیم اوورسیز پاکستانی جرمن شہریت حاصل کرنے کی صورت میں پاکستان کی شہریت سرنڈر کرنے کے پابند نہیں رہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملے گا جو طویل عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں اور شہریت کے معاملے میں غیریقینی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت دہری شہریت سے متعلق قومی پالیسی میں توسیع کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
اس توسیع کے تحت حکومتِ پاکستان نے جرمنی کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جن کے ساتھ پاکستانی شہریوں کو دہری شہریت کی اجازت حاصل ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا تعلق جرمنی کے قانون میں کسی نئی تبدیلی سے نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے شہریت کے قوانین اور پالیسی فیصلے سے ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ ’حکومتِ پاکستان نے جرمنی میں مقیم پاکستانی شہریوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دہری شہریت کی اجازت دی ہے، جس کے بعد اب جرمن شہریت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کو اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنا پڑے گا۔‘
بیورو آف امیگریشن کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کے 21 ممالک کے ساتھ دہری شہریت کے باضابطہ انتظامات رکھتا ہے۔
ان انتظامات کے تحت امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، نیدرلینڈز، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، مصر، اردن اور دیگر منتخب ممالک شامل ہیں جہاں شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی اپنی پاکستانی شہریت بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ان دہری شہریت کے انتظامات کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا، ان کے معاشی اور سماجی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور پاکستان کے ساتھ ان کے آئینی و قانونی تعلق کو برقرار رکھنا ہے۔
بیورو آف امیگریشن کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ترسیلاتِ زر، سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور دہری شہریت جیسی سہولیات ان کے اعتماد کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے انہیں جرمنی میں مستقل قانونی حیثیت، بہتر ملازمت کے مواقع اور سماجی تحفظ حاصل ہو سکے گا۔
اس کے علاوہ وہ پاکستان میں جائیداد، وراثت اور دیگر شہری حقوق بھی برقرار رکھ سکیں گے۔
حکام نے جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جرمن شہریت کے لیے درخواست دینے سے قبل دونوں ممالک کے متعلقہ قوانین، دستاویزی تقاضوں اور عملی شرائط کا بغور جائزہ لیں۔
جرمنی میں اس وقت پاکستانیوں کی ایک بڑی اور منظم کمیونٹی آباد ہے۔
سرکاری اور سفارتی ذرائع کے مطابق جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے جن میں بڑی تعداد اُن افراد کی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعلیم، روزگار اور خاندانی ملاپ کے مختلف پروگراموں کے تحت جرمنی پہنچے۔
حالیہ برسوں میں جرمنی کی صنعتی اور تکنیکی معیشت میں ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستانی نوجوانوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ملازمت کے شعبوں کی بات کی جائے تو جرمنی میں مقیم پاکستانی بڑی تعداد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ، مکینیکل و الیکٹریکل صنعت، آٹوموٹو سیکٹر، نرسنگ، ہیلتھ کیئر، ریسرچ، یونیورسٹی تدریس اور ٹیکنیکل ٹریڈز سے وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ فوڈ ڈیلیوری، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور کنسٹرکشن کے شعبوں میں بھی پاکستانی کارکن نمایاں طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جرمنی میں اس وقت پاکستانی نژاد ہنرمند افراد کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور محنت کی وجہ سے ایک قابلِ اعتماد ورک فورس سمجھا جاتا ہے۔
کاروباری شعبے میں بھی پاکستانی کمیونٹی نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
جرمنی کے بڑے شہروں برلن، ہیمبرگ، فرینکفرٹ، میونخ، کولون اور ڈسلڈورف میں پاکستانی شہری ریسٹورنٹس، سپر مارکیٹس، ٹیکسی اور لاجسٹکس کمپنیاں، امپورٹ ایکسپورٹ، آئی ٹی سٹارٹ اپس اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار چلا رہے ہیں۔
کمیونٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی کاروبار نہ صرف مقامی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے جرمنی کے لیے دہری شہریت کی منظوری کے بعد پاکستانی کمیونٹی میں معاشی استحکام آئے گا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور وہ افراد جو اب تک شہریت کی قانونی مجبوریوں کے باعث بڑے کاروباری فیصلوں سے گریزاں تھے، مستقبل میں زیادہ اعتماد کے ساتھ جرمنی میں طویل مدتی سرمایہ کاری کر سکیں گے۔