میڈرڈ میں امریکی سفارت خانے کے سامنے نکولس مادورو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج، امریکہ دہشت گرد کے نعرے

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)نکولس مادورو کی گرفتاری اور وینزویلا پر امریکی کارروائی کے خلاف اتوار کے روز میڈرڈ میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسے وینزویلا کے خلاف “امپیریلسٹ جارحیت” قرار دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے لاطینی امریکا سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔

یہ احتجاج پلیٹ فارم اگینسٹ نیٹو اینڈ ملٹری بیسز کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جس میں شرکا نے سفارت خانے کے سامنے واقع سیرانو اسٹریٹ کے تقریباً ایک بلاک پر قبضہ کر لیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری نے سڑک عبور کرنے سے روکنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں رکھا۔

مظاہرے کے دوران “ٹرمپ جارح”، “امریکا کا بائیکاٹ کرو”، “امریکا حملہ آور”، “لاطینی امریکا سے یانکیز باہر نکلو”، “یہ سفارت خانہ خون سے رنگا ہوا ہے”، “نیٹو نامنظور، فوجی اڈے ختم کرو” اور “ہم امریکی کالونی نہیں بننا چاہتے” جیسے نعرے لگائے گئے۔ کئی مظاہرین کے ہاتھوں میں انہی مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی تھے۔

احتجاج میں پوڈیموس کی سیکریٹری جنرل ایونے بیلارا اور ہسپانوی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اینریکے سانتیاگو نے بھی شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کی سخت مذمت کی اور اس معاملے پر ہسپانوی حکومت کے مؤقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایونے بیلارا نے امریکی اقدام کو غیر قانونی فوجی مداخلت اور “تیل کی جنگ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور اس وقت دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد ڈونلڈ ٹرمپ ہے، جو عوام کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا سے سفارتی تعلقات توڑے جائیں، نیٹو سے علیحدگی اختیار کی جائے اور طاقت کے قانون کی بالادستی کو روکا جائے۔ بیلارا کے مطابق امریکا کے اصل مفادات وینزویلا کے قدرتی وسائل ہیں، جبکہ ہسپانوی حکومت اور یورپی یونین اس معاملے میں “امریکا کے تابع دار” بن کر رہ گئی ہیں۔

اینریکے سانتیاگو نے بھی یورپی یونین، بشمول اسپین، کی جانب سے امریکا کی کارروائی کی واضح اور مؤثر مذمت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق وینزویلا میں امریکا نے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور ایک برسرِاقتدار سربراہِ مملکت کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کو مکمل استثنا کے ساتھ کارروائی کی اجازت ملتی رہی تو اگلا ہدف گرین لینڈ، کینیڈا، کولمبیا یا پاناما ہو سکتا ہے۔

سانتیاگو نے زور دیا کہ یورپی یونین، اقوام متحدہ اور امریکی ریاستوں کی تنظیم کو واضح طور پر بین الاقوامی قانون کا دفاع کرنا ہوگا، ورنہ جرائم کی یہ روش نہیں رکے گی۔ انہوں نے اسپین کے نیٹو سے نکلنے اور کیریبین میں فوجی دباؤ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے نکولس مادورو کی فوری رہائی پر بھی زوردیا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے