دنیا میں پہلی بار بغیر دل کھولے کورونری بائی پاس کامیابی سے انجام

Screenshot

Screenshot

امریکا میں قومی ادارہ صحت (NIH) اور ایموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، اٹلانٹا کے محققین نے دنیا میں پہلی بار کورونری بائی پاس ایسا طریقے سے انجام دیا ہے جس میں نہ تو دل کھولا گیا اور نہ ہی سینہ چیرا گیا۔ یہ کارنامہ ایک 67 سالہ مریض پر انجام دیا گیا، جس کے نتائج معروف طبی جریدے Circulation میں شائع ہوئے ہیں۔

عام طور پر کورونری بائی پاس سرجری اوپن ہارٹ کے ذریعے کی جاتی ہے، مگر اس نئے طریقہ کار میں جسم کے قدرتی خون کی نالیوں کو استعمال کرتے ہوئے کیتھیٹر کے ذریعے دل تک رسائی حاصل کی گئی۔ یہ طریقہ خاص طور پر اُن مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو دل کی کھلی سرجری کے قابل نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق یہ طریقہ اس خطرناک پیچیدگی سے بچاؤ کے لیے اختیار کیا گیا جو دل کے والو کی تبدیلی کے بعد شاذ و نادر مگر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، یعنی کورونری شریان کی بندش۔ تحقیق کے مرکزی مصنف اور ماہرِ قلب کرسٹوفر بروس کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جدید اور عملی سوچ کا نتیجہ ہے، جو مستقبل میں کم تکلیف دہ علاج کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

متعلقہ مریض کی ایورٹک والو پہلے ہی بایوپروستھیسس سے تبدیل کی جا چکی تھی، مگر کیلشیم جمع ہونے کے باعث دوبارہ تبدیلی ضروری ہو گئی۔ مریض کی مخصوص جسمانی ساخت کی وجہ سے معمول کا طریقہ اختیار کرنے پر بائیں کورونری شریان کے بند ہونے کا شدید خدشہ تھا۔ ماضی میں متعدد طبی مداخلتوں اور خون کی شریانوں کی بیماری کے باعث وہ اوپن ہارٹ سرجری کے لیے بھی موزوں نہیں تھا۔

ایموری یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایڈم گرین بام کے مطابق ایسے مریض کے لیے کم سے کم مداخلت پر مبنی متبادل کا ہونا نہایت ضروری تھا۔ تاہم مریض موجودہ کم تکلیف دہ طریقوں کے لیے بھی موزوں نہیں تھا، جس کے بعد ماہرین نے ایک نیا حل تیار کیا۔

اس نئے طریقہ کار کو وینٹریکولوکورونری ٹرانس کیتھیٹر نیویگیشن اینڈ ری اینٹری (VECTOR) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ٹانگوں کی خون کی نالیوں کے ذریعے کیتھیٹر داخل کر کے دل تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور خون کے بہاؤ کے لیے ایک نیا محفوظ راستہ بنایا جاتا ہے، جو والو سے محفوظ فاصلے پر ہوتا ہے۔

طریقہ کار کے دوران شریان اور دل کے وینٹریکل کے درمیان ایک نیا راستہ قائم کیا گیا، جس میں خصوصی تاروں، کیتھیٹرز اور اسٹینٹ کی مدد سے بائی پاس گرافٹ نصب کیا گیا۔ اس طرح خون کے بہاؤ کے لیے ایک نئی راہ فراہم کی گئی، جس میں کسی رکاوٹ یا نقصان کا خطرہ نہیں رہا۔

عمل کے چھ ماہ بعد مریض میں کورونری شریان کی کسی بندش کے آثار سامنے نہیں آئے، جس سے اس طریقہ کار کی پہلی انسانی آزمائش کامیاب قرار دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مزید مریضوں میں بھی یہی نتائج سامنے آئے تو VECTOR مستقبل میں دل کی بعض پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں اسٹینٹ جیسے روایتی طریقے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

تحقیق کے اختتام پر کرسٹوفر بروس نے کہا کہ تصور سے لے کر جانوروں پر تجربات اور پھر کامیاب طبی اطلاق تک اس منصوبے کا سفر غیر معمولی طور پر تیز اور حوصلہ افزا رہا، اور NIH اور ایموری کے اشتراک سے یہ پیش رفت ممکن ہو سکی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے