گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی استعمال بھی زیر غور،وائٹ ہاؤس
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنے سامنے موجود امکانات میں فوج کے استعمال کو بھی شامل رکھے ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، جسے امریکی ذرائع ابلاغ نے نقل کیا، صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کے حصول کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے اور بطور کمانڈر ان چیف امریکی فوج کا استعمال بھی ہمیشہ ایک ممکنہ اختیار رہتا ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کے ساتھ ایک نجی بریفنگ میں وضاحت کی کہ ان بیانات کا مطلب کسی فوری فوجی حملے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق اصل مقصد ڈنمارک سے گرین لینڈ کو خریدنا ہے۔ یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے زیر غور دیگر آپشنز میں گرین لینڈ کی خریداری یا آزادانہ شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر کی خواہش ہے کہ یہ معاملہ ان کی مدت صدارت کے خاتمے سے پہلے طے پا جائے۔
گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکا کے لیے گرین لینڈ کا الحاق قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ضروری ہے۔ اس کے برعکس ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے امریکی دھمکیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوپن ہیگن واشنگٹن کا دیرینہ اتحادی ہے اور آرکٹک میں واقع یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیلڈٹ اور ان کے ڈنمارک کے ہم منصب لارس لوکے راسموسن نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے تین ملکی وزرائے خارجہ کی سطح پر فوری ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
گرین لینڈ کی وزیر خارجہ کے مطابق گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حکومتوں نے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کر کے جلد از جلد وزارتی ملاقات کے انعقاد کی درخواست کی ہے، جس کی بعد ازاں ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کر دی۔