کاتالونیا کا آبادیاتی بحران،جتنے زیادہ تارکینِ وطن کو قبول کیا جا رہا ہے، ہم اتنے ہی غریب ہوتے جا رہے ہیں، تحریر۔۔خوسے گارسیادومنگیز

Screenshot

Screenshot

کالم نگار لکھتے ہیں کہ چونکہ ہمارے پاس پورا ایک سال موجود ہے جس میں ایک دوسرے کو انسانی ہمدردی اور عالمگیر یکجہتی کے خوش نما جذبات سے متاثر کیا جا سکتا ہے، اس لیے آج کی تحریر ان باتوں کے لیے مختص ہے جنہیں سماجی علوم میں “ٹھوس اعداد و شمار” کہا جاتا ہے۔

یورپی یونین میں اس وقت مستقل طور پر ساڑھے چار سو ملین سے زائد افراد آباد ہیں، جن میں سے تقریباً 80 لاکھ افراد کو سرکاری اعداد و شمار میں “کاتالان” کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ چار چھوٹے صوبوں پر مشتمل اس محدود علاقے، یعنی کاتالونیا، میں یورپی یونین کی مجموعی امیگریشن کا تقریباً 10 فیصد آتا ہے۔

یعنی ہر دس میں سے ایک۔ مصنف کے بقول یہ ایک دیوانگی ہے، سراسر دیوانگی۔ اس دیوانگی کو معیشت کی ترقی کے لیے ضروری بلکہ ناگزیر قرار دیا جاتا ہے، اور یہ وعظ دائیں اور بائیں دونوں جانب سے مسلسل دہرایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مقامی معیشت کو چلانے کے لیے افرادی قوت کا ایسا نہ ختم ہونے والا سیلاب درکار ہے؟

مصنف ایک بار پھر اعداد و شمار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کاتالونیا، جو کبھی اسپین کی مشہور “فیکٹری” کہلاتا تھا، جنرل فرانکو کی وفات (20 نومبر 1975) کے وقت 55 لاکھ آبادی رکھتا تھا۔ اس وقت یہی آبادی، کسی بیرونی مدد کے بغیر، اسپین کی مجموعی قومی پیداوار کا 20 فیصد پیدا کر رہی تھی۔

فرانکو کی وفات کے پچاس برس بعد کاتالونیا کی آبادی میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ تعداد آٹھ ملین تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس آبادی کے اضافے کا معاشی نتیجہ کیا نکلا؟ مصنف کے مطابق نتیجہ یہ ہے کہ کاتالونیا آج نسبتاً زیادہ غریب ہے۔ پہلے اس کا حصہ قومی پیداوار میں 20 فیصد تھا، اب یہ کم ہو کر 18.8 فیصد رہ گیا ہے، اور مسلسل گراوٹ میں ہے۔

کالم نگار کے الفاظ میں: “جتنے زیادہ تارکینِ وطن کو ہم قبول کرتے جا رہے ہیں، ہم اتنے ہی غریب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہیں، کوئی ادبی مبالغہ نہیں۔” آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ اس کے باوجود ہم پورے اعتماد کے ساتھ تباہی کی سمت بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے