اسپین شینگن ویزا: اپائنٹمنٹ کا بحران اور اعتماد کی آزمائش۔تحریر۔۔عدیل خان یوسفزئی

Screenshot

Screenshot

اسپین کے شینگن ویزا کے لیے اپائنٹمنٹ حاصل کرنا آج کئی ممالک میں ایک معمولی انتظامی مرحلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر اُن ممالک میں جہاں اسپین کے سفارت خانے اور قونصل خانے ویزا درخواستوں کی وصولی کے لیے تھرڈ پارٹی اداروں سے BLS اور بعض مقامات پر VisaTronix—پر انحصار کرتے ہیں، وہاں عام شہری کے لیے اپائنٹمنٹ حاصل کرنا ایک مشکل اور بعض اوقات ناممکن تجربہ بن جاتا ہے۔

صورتِ حال یہ ہے کہ سرکاری ویب سائٹس پر ہفتوں تک “کوئی اپائنٹمنٹ دستیاب نہیں” کا پیغام نظر آتا رہتا ہے، جبکہ اسی دوران ایجنٹس چند گھنٹوں یا دنوں میں اپائنٹمنٹ دلوانے کی یقین دہانی کے ساتھ بھاری رقوم طلب کرتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے عوام کے ذہن میں ایک خطرناک سوال کو جنم دیا ہے:

کیا اسپین کے ویزا اپائنٹمنٹ واقعی میرٹ اور ترتیب سے دیے جا رہے ہیں، یا یہ سہولت صرف اُن لوگوں تک محدود ہو چکی ہے جو اضافی ادائیگی کر سکتے ہیں؟

عام طور پر اس مسئلے کا جواب “زیادہ درخواستیں” یا “ہائی ڈیمانڈ” کہہ کر دے دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ اسپین ایک مقبول شینگن منزل ہے، مگر اصل مسئلہ صرف زیادہ ڈیمانڈ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈیمانڈ زیادہ ہے تو اپائنٹمنٹ ریلیز کا طریقہ شفاف کیوں نہیں؟ عوام کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ ہفتہ وار کتنے اپائنٹمنٹ سلاٹس جاری ہوتے ہیں، اور کن کیٹیگریز میں؟ وہی محدود سلاٹس چند لمحوں میں کیسے غائب ہو جاتے ہیں، اور عام درخواست گزار مہینوں ناکام کیوں رہتا ہے؟

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ویزا منظور یا مسترد کرنے کا اختیار BLS یا VisaTronix کے پاس نہیں، بلکہ یہ فیصلہ اسپین کے قونصل خانے کرتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اپائنٹمنٹ سسٹم اس پورے عمل کا دروازہ بن چکا ہے۔ اگر یہ دروازہ ہی عام شہری کے لیے بند ہو، تو دستاویزات کی مکمل تیاری اور اہلیت بے معنی ہو جاتی ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس بحران کی بڑی وجہ کسی پیچیدہ “ہیکنگ” سے زیادہ، نظام کی کمزوریاں اور نگرانی کا فقدان محسوس ہوتی ہیں۔ جب اپائنٹمنٹ سسٹم میں مؤثر اینٹی بوٹ کنٹرولز نہ ہوں، شناخت کی تصدیق مضبوط نہ ہو، اور منسوخی و دوبارہ بکنگ کے اصولوں پر سختی سے عمل نہ کرایا جائے، تو خود بخود ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جس میں ایجنٹس اور بروکرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

نتیجتاً معاشرے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اپائنٹمنٹ محنت یا صبر سے نہیں، بلکہ پیسوں سے ملتی ہے۔ یہ تاثر کسی بھی سفارتی مشن کے لیے نہایت نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور ویزا نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

یہاں احتیاط لازم ہے: بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے یہ کہنا درست نہیں کہ BLS یا VisaTronix خود اپائنٹمنٹ بلیک مارکیٹ چلا رہے ہیں۔ مگر یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر ایک ہی نظام مسلسل ایسے نتائج دے رہا ہے جن میں عام شہری ناکام اور ایجنٹس کامیاب ہوں، تو یہ ایک سنگین گورننس مسئلہ ہے۔ ایسے میں آزادانہ تکنیکی آڈٹ، شفافیت اور سخت نگرانی محض آپشن نہیں بلکہ ضرورت بن جاتی ہے۔

حل بھی واضح ہیں۔ اسپین کے سفارتی مشنز اور ان کے نمائندہ اداروں کو چاہیے کہ اپائنٹمنٹ سسٹم میں شفافیت لائیں، ہفتہ وار سلاٹس اور طریقہ کار کے بارے میں بنیادی معلومات عوامی کریں، مضبوط قطار بندی اور شناختی تصدیق متعارف کرائیں، اور شکایات کے لیے قابلِ عمل نظام فراہم کریں۔ سب سے بڑھ کر، اپائنٹمنٹ میکانزم کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ اپائنٹمنٹ کیوں کم ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ایک قانونی، منصفانہ اور عوام کے لیے قابلِ رسائی راستہ واقعی موجود ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ مسئلہ محض انتظامی نہیں، بلکہ اعتماد اور انصاف کا بحران ہے—اور اس کا حل تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

کالم نگار:

عدیل خان یوسفزئی

ماہر قانون یورپین یونین امیگریشن لاء

ماسٹر ڈگری ان سپین امیگریشن لاء

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے