سانچیز کا نیکسٹ جنریشن کے بعد 120 ارب یورو متحرک کرنے کے لیے خودمختارسرمایہ کاری فنڈ کا اعلان
Screenshot
میڈرڈ (دوست نیوز)ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے نیکسٹ جنریشن یورپی فنڈز کے بعد بھی معاشی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ “اسپینیا کریسے” کے نام سے پیر کے روز باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس فنڈ کی ابتدائی سرمایہ کاری 10.5 ارب یورو ہوگی جبکہ مجموعی طور پر 120 ارب یورو تک سرمایہ متحرک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سانچیز نے یہ اعلان میڈرڈ میں منعقدہ Spain Investors Day کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے سامنے کیا۔ ان کے مطابق یہ فنڈ سرکاری اور نجی سرمایہ کو یکجا کرے گا۔ ابتدائی رقم پلان دے ریکوپراسیون، ٹرانسفارماسیون ای ریزیلینسیا سے آئے گی جبکہ باقی سرمایہ نجی قرض، قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نو اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے گی جن میں رہائش، توانائی، ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، دوبارہ صنعت کاری، سرکلر اکانومی، انفراسٹرکچر، پانی اور نکاسی آب، اور سلامتی شامل ہیں۔ دفاع کے شعبے کا ذکر فہرست کے آخر میں کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب کم اہمیت نہیں بلکہ قومی ضرورت کے مطابق ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔
سانچیز کے مطابق اس منصوبے کی تفصیلات پیر کے روز وزیر معیشت کارلوس کوئیرپو کے ساتھ پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسٹی ٹیوٹو دے کریڈیتو اوفیسیال (ICO) اس فنڈ کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرے گا اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر قرضوں اور ضمانتوں کے ذریعے سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر نیکسٹ جنریشن فنڈز یورپی خودمختاری کی مثال تھے تو “اسپینیا کریسے” قومی خودمختاری کا اظہار ہوگا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وبا کے بعد سے اب تک یورپی فنڈز کے تحت 63 ارب یورو کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، مگر یہ سلسلہ 2026 کے آخر میں ختم ہو جائے گا۔ نیا فنڈ اسی تسلسل کو آگے بڑھانے اور دیرپا بنانے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اسٹریٹجک انویسٹمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے۔
اپنی تقریر میں سانچیز نے بالواسطہ طور پر امریکا کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسے رجحانات بڑھ رہے ہیں جہاں تنوع، مساوات، پائیداری اور ڈیجیٹل ترقی کا انسانی پہلو پیچھے جا رہا ہے، جبکہ اسپین ایک مختلف راستہ اختیار کر رہا ہے۔
توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج اسپین میں بجلی کے نرخ یورپی اوسط سے 20 فیصد کم ہیں اور ملک کی بڑی مقدار بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے جوہری توانائی کے حامیوں کو خبردار کیا کہ جوہری پلانٹس کی بندش کی پالیسی برقرار رہے گی اور اگر کمپنیاں اس شعبے میں رہنا چاہتی ہیں تو انہیں سکیورٹی کی مکمل ضمانت دینا ہوگی۔ عوام پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
معاشی استحکام پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اسپین نے بغیر کٹوتیوں کے اپنی قومی قرضہ شرح کو 23 پوائنٹس کم کیا ہے اور آج اسپین کا رسک پریمیم فرانس سے بھی کم ہے۔ انہوں نے یورپی یونین اور مرکوسور کے درمیان معاہدے کو حالیہ برسوں کی بڑی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی کامیابی قرار دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بعض بڑی طاقتیں تجارتی جنگوں اور محصولات کی راہ اپنا رہی ہیں۔
سانچیز نے اسپین کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور پرکشش ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے باوجود اسپین دنیا کا پانچواں اور یورپ کا تیسرا بڑا وصول کنندہ ہے، جہاں دس برسوں میں 650 ارب یورو کی سرمایہ کاری آئی ہے۔ ان کے الفاظ میں، آج “Spain is the place to be”۔
ہجرت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ اسپین میں کوئی فاضل نہیں، بلکہ ملک کو مزید لوگوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اسپین بند اور کمزور ہونے کے بجائے دنیا کے لیے کھلا ہے تاکہ فلاحی ریاست اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔
آخر میں سانچیز نے اعتراف کیا کہ ملک کو رہائش کے بحران اور کم آمدنی والے طبقے کے مسائل کا سامنا ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ اقلیتی پارلیمانی حمایت کے باوجود مخلوط ترقی پسند حکومت نے بڑے معاشی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ان کے بقول اصل استحکام اکثریت سے نہیں بلکہ مکالمے اور اختلاف کے باوجود اتفاق رائے سے پیدا ہوتا ہے۔