اسپین میں گھڑیوں کی سوئیاں کب بدلیں گی؟ کیا یہ آخری بار ہوگا؟
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین میں گرمیوں کے وقت کا آغاز ہمیشہ کی طرح مارچ کے آخری اتوار کو ہوگا۔ رواں سال یہ تبدیلی اتوار 30 مارچ 2026 کی صبح عمل میں آئے گی۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات، گھڑی کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جائیں گی۔ یعنی دو بجے کے بعد سیدھا تین بج جائیں گے اور ہمیں ایک گھنٹہ کم سونا پڑے گا۔
یہ تبدیلی پورے یورپی یونین میں ایک ساتھ کی جاتی ہے، جس کا مقصد دن کی قدرتی روشنی کے مطابق کام کے اوقات کو بہتر بنانا ہے۔ موسم بہار کے اعتدال کے بعد دن لمبے ہونے لگتے ہیں، سورج جلدی نکلتا ہے اور دیر سے غروب ہوتا ہے۔
گرمیوں کے وقت میں ہمیشہ گھڑی آگے کی جاتی ہے۔ اگر اس وقت آپ سو رہے ہوں تو بہتر ہے سونے سے پہلے گھڑی درست کر لیں۔ ویسے اب زیادہ تر ڈیجیٹل ڈیوائسز خود ہی وقت درست کر لیتی ہیں، اس لیے موبائل فون صبح صحیح وقت دکھا رہا ہوتا ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ شام کو زیادہ دیر تک روشنی رہتی ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے خوش کن ہے جو شام کو باہر نکلنا یا سرگرمیاں کرنا پسند کرتے ہیں۔ البتہ جو لوگ بہت صبح اٹھتے ہیں، انہیں دن کا آغاز اندھیرے میں کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وقت کی اس تبدیلی سے بعض افراد میں وقتی طور پر جسمانی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے تھکن، دن میں نیند آنا، رات کو نیند نہ آنا، چڑچڑاپن، توجہ میں کمی اور کام کی صلاحیت میں کمی۔ بعض لوگوں کو وقت سے پہلے یا دیر سے بھوک لگنے کی شکایت بھی ہوتی ہے۔
یہ اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ تحقیق کے مطابق مویشیوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ مثلاً سور اور گائیں، جن کے کھانے اور دودھ دوہنے کے اوقات متاثر ہوتے ہیں، جس سے کسانوں کو مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
اگر صحت پر منفی اثرات ہیں اور اکثر ماہرین سردیوں کے وقت کو زیادہ فطری قرار دیتے ہیں تو پھر گھڑیوں کا وقت کیوں بدلا جاتا ہے؟
جواب سیدھا ہے: معاشی فائدہ۔ حامیوں کے مطابق اس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ اسپین کے ادارہ برائے توانائی بچت (IDAE) کے اندازے کے مطابق ایک گھرانہ سالانہ تقریباً 6 یورو کی بچت کرتا ہے۔ اگر اسے پورے ملک کے گھروں سے جوڑا جائے تو یہ رقم کروڑوں یورو تک پہنچ جاتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے خود اس تبدیلی کی افادیت پر سوال اٹھایا تھا اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ 2026 کے بعد گھڑیوں کا وقت بدلنے کا سلسلہ ختم کر دیا جائے، کیونکہ اس سے نہ تو نمایاں توانائی بچتی ہے اور نہ ہی یہ عوام کی صحت کے لیے بہتر ہے۔
یورپی کمیشن پہلے ہی اس نظام کو ختم کرنے پر غور کر چکا ہے، مگر مختلف ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث فیصلہ مؤخر ہوتا رہا۔ تجویز یہ تھی کہ جو ممالک گرمیوں کے وقت کو اختیار کریں وہ مارچ میں آخری تبدیلی کریں اور جو سردیوں کے وقت کو منتخب کریں وہ اکتوبر میں۔
اسپین کس وقت کے ساتھ رہے گا؟
یہ معاملہ اب بھی غیر یقینی ہے۔ حکومت کے مقرر کردہ ماہرین کسی ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے اور حتمی فیصلہ یورپی سطح پر ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
البتہ 2022 میں جاری کردہ سرکاری کیلنڈر کے مطابق اکتوبر 2026 میں ہونے والی تبدیلی کو اسپین میں گھڑیوں کے وقت کی آخری تبدیلی قرار دیا گیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو 25 اکتوبر 2026 کو اسپین میں گھڑیاں آخری بار پیچھے کی جائیں گی۔
فی الحال سب کی نظریں یورپی یونین کے حتمی فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔