بارسلونا میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی جعلی شادیاں کرانے والا گروہ پکڑا گیا
Screenshot
بارسلونا اور تاراگونا میں موسوس دِ اسکوادرا اور نیشنل پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران ایک ایسے مجرمانہ نیٹ ورک کو پکڑا گیا ہے جو غیر یورپی شہریوں کو پیسوں کے عوض جعلی طریقوں سے رہائشی اجازت نامے دلوانے میں ملوث تھا۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ ہسپانوی خواتین کو استعمال کرتا تھا، جنہیں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ جعلی طور پر “پیریخا دے ہیچو” یعنی پارٹنرشپ میں شامل کیا جاتا، تاکہ ان غیر ملکیوں کو رہائش اور کام کے اجازت نامے مل سکیں۔
تحقیقات کے دوران تقریباً تیس جعلی امیگریشن فائلوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد 13 جنوری کو چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں، جن کی عمریں 21 سے 26 سال کے درمیان ہیں۔
ملزمان پر چار سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں مجرمانہ گروہ سے وابستگی، غیر ملکی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی، شناخت کی جعل سازی اور سوشل سیکیورٹی کے ساتھ دھوکہ دہی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق گروہ نے ان ہسپانوی خواتین کو، ان کی رضامندی کے بغیر، خود روزگار کے خصوصی نظام میں سوشل سیکیورٹی کے تحت رجسٹر کر دیا تاکہ جعلی طور پر مالی اور پیشہ ورانہ وسائل ظاہر کیے جا سکیں۔ اس عمل میں خواتین کے دستخط بھی جعلی بنائے گئے۔
یہ کیس مارچ 2023 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے شکایت درج کرائی کہ اس کی ایک دوست نے اس سے رابطہ کیا اور ایک غیر ملکی مرد کے ساتھ جعلی پارٹنرشپ کرنے کی پیشکش کی، تاکہ اسے شہریت اور رہائشی اجازت نامہ دلایا جا سکے۔
شکایت کنندہ کے مطابق اسے نہ صرف نوٹری کے سامنے جعلی پارٹنرشپ کے کاغذات پر دستخط کرنا پڑے بلکہ جعلی ساتھی کے ساتھ رہائش ظاہر کرنے کے لیے رجسٹریشن بھی کروائی گئی اور ذاتی و بینکنگ دستاویزات بھی فراہم کی گئیں۔
بعد ازاں سوشل سیکیورٹی کی جانب سے واجبات کی وصولی کے لیے اس کے اکاؤنٹ سے رقم ضبط کی گئی، جس سے اسے پندرہ سو یورو سے زائد کا قرض برداشت کرنا پڑا۔
تقریباً تین سال جاری رہنے والی اس تحقیق کے بعد اب پولیس نے اس منظم فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ مزید ممکنہ متاثرین اور جعلی فائلوں کی جانچ جاری ہے۔