ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔”پیدروسانچز

Screenshot

Screenshot

برطانوی جریدے The Economist نے ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز  کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں اسپین کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔”

وزیراعظم نے اپنے مضمون میں عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2003 میں امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے عراق پر حملہ کیا تھا کہ وہاں تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔

سانچیز کے مطابق اسپین میں اس جنگ کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس وقت کے وزیرِاعظم خوسے ماریا ازنار نے عوام سے کہا تھا:“آپ یقین رکھیں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں، عراقی حکومت کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔”

سانچیز لکھتے ہیں کہ بہت کم لوگوں نے اس دعوے پر یقین کیا۔ صرف پانچ فیصد ہسپانوی عوام نے جنگ کی حمایت کی جبکہ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اسے غیرقانونی، غیر اخلاقی اور غیر ضروری جنگ قرار دیا۔ اس کے باوجود، ان کے بقول، ازنار کی حکومت نے اسپین کو اس جنگ میں شامل کر دیا۔ سانچیز نے کہا کہ “باقی تاریخ ہے، اور وہ ایک افسوسناک تاریخ ہے۔”

ہسپانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آج دنیا ایک ملتی جلتی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی حکومت کا مؤقف وہی ہے جو ہسپانوی عوام کا ہے:

“جنگ نہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں، ماضی کی غلطیوں کی تکرار نہیں، اور یہ خیال بھی نہیں کہ دنیا کے مسائل بمباری سے حل ہو سکتے ہیں۔”

سانچیز نے واضح کیا کہ اسپین کا یہ مؤقف امریکہ مخالف جذبات کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ ہی ایران کی حکومت کے لیے ہمدردی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ہمیشہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی حمایت کرتی رہی ہے اور ایران کے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے اپنے عوام، خصوصاً خواتین، کے ساتھ کیے گئے مظالم کی بارہا مذمت کرتی رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسپین نے اپنے فوجی اڈوں روتا اور مورون کو جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی۔ ان کے مطابق بعض لوگ اس مؤقف کو سادہ لوحی قرار دے سکتے ہیں، لیکن اصل سادہ لوحی یہ سمجھنا ہے کہ ڈرونز اور میزائلوں کے بڑھتے ہوئے تبادلے سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔

مضمون کے اختتام پر سانچیز نے کہا کہ خوش قسمتی سے اسپین اس سوچ میں اکیلا نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ مزید ممالک بھی اسی راستے کی حمایت کریں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے