ٹرین حادثے کے متاثرین کو بچانے والے نوجوان جولیو کا شکریہ: بادشاہ و ملکہ کی جانب سے خراجِ تحسین

Screenshot

Screenshot

اسپین کے بادشاہ فلپ ششم اور ملکہ لیتیثیا نے ٹرین حادثے میں زخمیوں کو بچانے والے 16 سالہ نوجوان جولیو رودریگز سے ملاقات کر کے اس کی جرأت، حوصلے اور انسان دوستی پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ جولیو، جو صوبہ قرطبہ کے قصبے آدموز کا رہائشی ہے، مچھلی پکڑ کر دوست کے ساتھ واپس آ رہا تھا کہ اچانک آئیریو اور الویا ٹرینوں کے ہولناک تصادم سے دوچار ہو گیا۔

جولیو نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر خود کو امدادی کاموں کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے زخمیوں کو ٹرینوں سے نکالا، انہیں محفوظ مقام تک پہنچایا اور ابتدائی مدد فراہم کی۔ اس کا کہنا تھا:

“مجھے سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا کہ میں تھکا ہوا ہوں یا نہیں، بس مدد کرنا تھی۔”

بادشاہ اور ملکہ نے تقریباً بیس منٹ تک جولیو سے گفتگو کی اور اس کے کردار کو سراہا۔ جولیو کے مطابق:“انہوں نے ہمیں شکریہ کہا کیونکہ ہم سب سے پہلے وہاں پہنچنے والوں میں تھے۔ ایسی مشکل گھڑی میں ہم نے بس وہی کیا جو ہمارے بس میں تھا، لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔”

حادثے کے بعد آداموز کے عوام نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ جولیو نے بتایا کہ وہ اور اس کا دوست ابتدائی طور پر یہ سمجھے کہ ریسکیو مکمل ہو چکا ہے، مگر بعد میں انہیں ایک اور ٹرین کا علم ہوا جو ڈھلوان میں جا گری تھی۔

“ہم نے جتنے لوگوں کو نکال سکتے تھے نکالا اور انہیں علاج کے لیے پہنچایا، یہاں تک کہ پولیس اور فائر بریگیڈ آ گئی اور انہوں نے پیشہ ورانہ طور پر کام سنبھال لیا۔”

جولیو نے بتایا کہ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کیا۔“میں نے انہیں بتایا کہ ہم مچھلی پکڑ کر آ رہے تھے، راستے میں پولیس، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ دیکھی، اور یوں ہم موقع پر سب سے پہلے پہنچ گئے۔ پھر ہم نے وہ سب کیا جو ہمارے ہاتھ میں تھا۔”

جولیو کے مطابق اس لمحے اس کا جسم جیسے کسی اور ہی کیفیت میں تھا۔“میں کم از کم چھ بار آٹھ سو میٹر کا فاصلہ ادھر اُدھر دوڑتا رہا۔ نہ تھکن کا خیال آیا، نہ اپنی جان کا، بس لوگوں کو بچانا تھا۔”

ملکہ لیتیثیا نے اس کے رویے کو اس کی کم عمری کے باوجود “بہت خوبصورت اور متاثر کن” قرار دیا، جبکہ جولیو نے اعتراف کیا کہ وہ فی الحال تو سو لیتا ہے، مگر نہیں جانتا کہ آنے والے دنوں میں وہ مناظر اسے کیسے متاثر کریں گے، کیونکہ اس نے راستے میں جان بحق افراد اور دل دہلا دینے والے مناظر بھی دیکھے۔

جولیو کو ان خاندانوں کی جانب سے بھی مسلسل دعائیں اور پیغامات مل رہے ہیں جن کی اس نے مدد کی۔ اس نے کئی زخمیوں کے موبائل فون اپنے پاس رکھے اور ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے بتایا کہ ان کے پیارے زندہ ہیں اور ہسپتال منتقل کر دیے گئے ہیں۔

علاقائی چینل کینال سور پر ایک زخمی کے والد کارمیلو، جو پنتا اومبریا کے رہائشی ہیں، جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنسوؤں کے ساتھ کہا:

“تم ہی ہو، تم ہی میرے بیٹے کے فرشتے ہو۔”

جولیو نے گفتگو کے اختتام پر بس یہی کہا:

“ہم جو کچھ کر سکتے تھے، دل سے کیا۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے