لندن میں ہونسلو: 16 سالہ سکھ لڑکی کی مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی، سکھ برادری کا بڑا احتجاج

WhatsApp Image 2026-01-20 at 21.21.41

ویسٹ لندن کے علاقے ہونسلو میں ایک 16 سالہ سکھ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر سنگین زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے مقامی سکھ کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق، ایک پاکستانی نژاد مرد (عمر تقریباً 30 کی دہائی کے آخر میں) نے لڑکی کو grooming کے ذریعے اعتماد میں لیا۔ یہ عمل مبینہ طور پر کئی سالوں سے جاری تھا (لڑکی کی عمر 13 سال کے قریب سے)۔ جب لڑکی 16 سال کی ہوئی تو اسے گھر سے لے جا کر ایک فلیٹ میں رکھا گیا، جہاں اس کے ساتھ 6 دیگر مردوں نے مل کر جنسی زیادتی کی۔ یہ گروپ ایک مبینہ grooming gang کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ لڑکی کو کئی گھنٹوں یا دنوں تک قید رکھا گیا اور وہ بھاگنے کی کوششیں کرتی رہی مگر دھمکیوں کی وجہ سے ناکام رہی۔

جب واقعہ کی اطلاع ملی تو سکھ کمیونٹی نے فوری طور پر ایکشن لیا۔ تقریباً 200 سے زائد (کچھ رپورٹس میں 200-300) سکھ افراد نے ملزم کے فلیٹ کے باہر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران “جو بولے سو نہال، ست سری اکال” کے نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے پولیس پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر بروقت کارروائی نہیں کی۔ گھنٹوں جاری رہنے والے مظاہرے کے بعد پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا اور لڑکی کو محفوظ طور پر اس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔

میٹروپولیٹن پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم سکھ برادری اور مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اکیلا نہیں بلکہ grooming gangs کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، خاص طور پر اقلیتی برادریوں (جیسے سکھ اور ہندو لڑکیوں) کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ واقعہ 13-14 جنوری 2026 کے آس پاس پیش آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے تیزی سے پھیلا، جس نے برطانیہ میں child sexual exploitation اور grooming gangs کے دیرینہ مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے