ہنگری نے یوکرین سے آنے والی ایک بکتر بند گاڑی سے کروڑوں ڈالر نقد رقم پکڑ لی
Screenshot
ہنگری نے یوکرین سے آنے والی ایک بکتر بند گاڑی کو روک کر اس میں موجود کروڑوں ڈالر کی نقد رقم اور سونا برآمد کر لیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ہنگری کی ٹیکس اور کسٹمز ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی منی لانڈرنگ کے خلاف ایک خصوصی آپریشن کے دوران کی گئی۔
حکام کے مطابق بکتر بند گاڑی میں تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر، 35 ملین یورو اور تقریباً 9 کلو گرام سونا موجود تھا۔ گاڑی میں سوار سات افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہنگری کے مطابق گرفتار افراد میں زیادہ تر یوکرین کے سرکاری بینک Oschadbank کے ملازمین شامل ہیں جبکہ ان کے ساتھ یوکرین کی خفیہ سروس کا ایک سابق جنرل بھی موجود تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگری کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے ایک ہائی وے کے پارکنگ ایریا میں یوکرینی نمبر پلیٹ والی بکتر بند گاڑیوں کو روک کر یہ کارروائی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے سیاہ لباس میں ملبوس افراد کو گاڑیوں سے نکال کر زمین پر لٹا دیا اور بعد میں انہیں حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب یوکرین نے ہنگری کی اس کارروائی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “اغوا اور ڈکیتی” قرار دیا ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ اندری سیبیہا کا کہنا ہے کہ یہ رقم آسٹریا سے یوکرین منتقل کی جا رہی تھی اور اس کا مقصد ایک قانونی مالیاتی معاہدے کے تحت بینکنگ نظام کے ذریعے ترسیل تھا۔ ان کے مطابق اس رقم اور سونے کی نقل و حمل کے بارے میں متعلقہ حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
ہنگری کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف رواں سال یوکرین ہنگری کے راستے سینکڑوں ملین ڈالر اور بڑی مقدار میں سونا منتقل کر چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس سے پہلے ان ترسیلات کو کیوں نہیں روکا گیا۔
اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اعلان کیا کہ ان کا ملک یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت جاری رکھے گا۔ اس بیان کے بعد یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اوربان پر یورپی امدادی پیکج کو روکنے کا الزام بھی عائد کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔