خواتین کےبے گھر ہونے کا بڑھتا ہوا المیہ: “سڑک پر عورت سے زیادہ غیر محفوظ کوئی نہیں”

Screenshot

Screenshot

رہائش کے بحران نے اسپین میں بے گھری کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور اس کا سب سے گہرا اثر خواتین پر پڑ رہا ہے۔ نوجوان ہوں یا معمر، بڑھتی ہوئی کرایہ داری، کم آمدنی اور سماجی عدم تحفظ نے خواتین کو سڑک پر لا کھڑا کیا ہے۔ کیٹالونیا میں تیار کی گئی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بے گھری کا مسئلہ اب واضح طور پر “نسوانی شکل” اختیار کرتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپین میں بے گھر ہونے کی سب سے بڑی وجہ رہائش کی قیمتیں ہیں۔ خواتین کی صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ پوشیدہ رہتی ہے کہ وہ اکثر سڑک پر نظر آنے کے بجائے غیر محفوظ کمروں، عارضی پناہ گاہوں یا نہایت خستہ حالات میں زندگی گزار رہی ہوتی ہیں، بعض اوقات اپنے بچوں کے ساتھ۔ ماہرین کے مطابق یہی چیز خواتین کو مزید کمزور بنا دیتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کاتالونیا میں بے گھر افراد میں مردوں اور عورتوں کا تناسب اب تقریباً برابر ہو چکا ہے، جو ایک تشویشناک تبدیلی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ گھریلو تشدد، طلاق، کمزور سماجی نیٹ ورک، اکیلا پن اور کم پنشن جیسی وجوہات خواتین کو تیزی سے اس دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔

فلاحی اداروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر زندگی خواتین کے لیے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔ تشدد، جنسی استحصال، صحت کے شدید مسائل اور ذہنی دباؤ عام ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق سڑک پر رہنے سے مردوں کی اموات کا خطرہ سات گنا بڑھ جاتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ خطرہ گیارہ گنا تک پہنچ جاتا ہے۔

اگرچہ بعض شہروں میں خواتین کے لیے مخصوص پناہ گاہیں اور فوری مدد کے پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ بروقت مداخلت، درست اعداد و شمار اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اس مسئلے کو جڑ سے روکا جائے۔ سماجی ادارے متفق ہیں کہ بے گھری کوئی فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، اور اسے نظرانداز کرنا سب کے لیے خطرناک ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے