“آگے دن طویل اور مشکل ہیں، ہمیں نہایت خطرناک موسمی حالات کا سامنا ہے”سانچیز کا انتباہ

Screenshot

Screenshot

وزیراعظم اسپین پیدرو سانچیز نے اندلس میں جاری شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو آئندہ دنوں میں مزید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے اب تک 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں۔

جمعے کے روز صوبہ کادیس کے قصبے سان روکے میں قائم ایڈوانس کمانڈ پوسٹ سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ شدید بارشوں کے باعث اندلس میں احتیاطی تدابیر کے طور پر 8 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے منتقل کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا: “ہم سب ان مسلسل بارشوں اور اس حقیقت سے شدید متاثر ہیں کہ زمین اب مزید پانی جذب کرنے کے قابل نہیں رہی۔”

وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بے گھر ہونے والے شہریوں سے صبر اور تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ ایمرجنسی سروسز کے فیصلوں کا واحد مقصد انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔

انہوں نے اندلسی حکومت اور وزیراعلیٰ خوانما مورینو کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا:“بحران کے آغاز سے اب تک ہم نے اندلس کی حکومت کے ساتھ بہترین ہم آہنگی کے تحت 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ علاقائی انتظامیہ کے ساتھ غیر معمولی تعاون جاری ہے۔”

سانچیز نے خبردار کیا کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا اور موسمی پیش گوئیاں مزید بارشوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔“ایک اور طوفانی نظام قریب آ رہا ہے۔ ہم نہایت خطرناک اور ناموافق موسمی حالات سے گزر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔

وزیراعظم نے عوام سے پرسکون رہنے، احتیاط برتنے اور صرف ایمرجنسی سروسز سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا:“میں سب سے کہتا ہوں کہ ہدایات پر عمل کریں کیونکہ آگے دن طویل ہیں۔”

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام انتظامیہ اس بحران کے مکمل خاتمے تک متاثرہ شہریوں کے ساتھ کھڑی رہے گی، اور بعد ازاں بحالی اور متاثرہ علاقوں کو دوبارہ فعال بنانے کے عمل میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

اس سے قبل وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کادیس کے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، بعد ازاں سان روکے میں قائم کمانڈ پوسٹ پہنچ کر امدادی ٹیموں سے ملاقات کی، آپریشنل کمانڈرز سے بریفنگ لی، نقصانات کا جائزہ اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی صورتحال پر معلومات حاصل کیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے