برسلز کا سانچیز کو سخت پیغام۔یورپی یونین نے امیگریشن اور ڈیجیٹل کنٹرول کے معاملے پر ہسپانوی حکومت کو بریک لگا دی

Screenshot

Screenshot

برسلز اور میڈرڈ کے درمیان ایک غیر معمولی کشیدگی سامنے آ گئی ہے، جس نے یورپی سیاست کے دو نہایت حساس موضوعات کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے: غیر قانونی تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن اور ڈیجیٹل دنیا کی ضابطہ کاری۔ ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی جانب سے ان معاملات میں یکطرفہ پیش قدمی پر یورپی اداروں نے سخت نظر رکھنا شروع کر دی ہے اور یورپی پارلیمنٹ میں سیاسی سطح پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بحث میں ان اقدامات کی یورپی یونین کے قانونی فریم ورک سے مطابقت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ایک جانب ہسپانوی حکومت کا یہ فیصلہ کہ لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دی جائے، برسلز میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس اقدام سے پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یورپی حکام کو خدشہ ہے کہ اس کے اثرات شینگن زون میں آزادانہ نقل و حرکت اور مشترکہ یورپی امیگریشن پالیسی پر پڑ سکتے ہیں، جس کا مقصد بے ہنگم ہجرت کو روکنا اور بیرونی سرحدوں کا تحفظ ہے۔

یورپی ممالک پہلے ہی اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں کہ کچھ تارکینِ وطن اسپین کے راستے داخل ہو کر وہاں رجسٹریشن کراتے ہیں، مگر بعد میں بہتر اجرت کے لیے دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ مجوزہ ریگولرائزیشن کے تحت یہ افراد دوبارہ اسپین آ کر بلدیاتی رجسٹریشن کی بنیاد پر اپنے کاغذات درست کرا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ یورپی یونین میں آزادانہ سفر تو کر سکیں گے، اگرچہ قانونی طور پر ان کے کام کرنے کی اجازت صرف اسپین تک محدود ہوگی۔ یہ مثال ان ممکنہ نتائج میں سے ایک ہے جن پر یورپی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

اگرچہ کسی رکن ملک میں مقیم افراد کو قانونی حیثیت دینا قومی حکومت کا اختیار ہے، لیکن اس کے باوجود کئی یورپی ریاستیں اس اقدام کو “کششِ ہجرت” یا ایفیکٹ کال کا باعث سمجھتی ہیں، جس سے مزید غیر منظم نقل مکانی ہو سکتی ہے۔

دوسرا بڑا تنازع ہسپانوی حکومت کی ڈیجیٹل پالیسی سے جڑا ہے۔ سانچیز حکومت کی تجویز ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کی جائے اور بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو غیر قانونی مواد اور مبینہ نفرت انگیز تقاریر کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے، جس کے لیے صارفین کی نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی بات کی جا رہی ہے۔

یورپی یونین کا ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پہلے ہی آن لائن مواد کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے، اور اس کا مقصد یہی ہے کہ رکن ممالک میں مختلف اور متضاد قوانین نہ بنیں۔ یورپی کمیشن کے بعض ارکان نے خبردار کیا ہے کہ اسپین کی کچھ تجاویز قومی اختیارات سے آگے بڑھ کر یورپی قانون سے ٹکرا سکتی ہیں، خاص طور پر پلیٹ فارمز کے سربراہان کے خلاف فوجداری کارروائی یا ریاستی سطح پر “نفرت کے نشانات” ناپنے کے نظام کے حوالے سے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ کے کئی دارالحکومت سانچیز کے بعض مقاصد کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کے معاملے میں۔ خود یورپی کمیشن بھی عمر کی تصدیق اور بچوں کے تحفظ کے مشترکہ طریقہ کار پر کام کر رہا ہے، مگر ایک متفقہ یورپی نقطۂ نظر کے تحت۔

یہ معاملہ محض قانونی یا تکنیکی بحث تک محدود نہیں رہا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیات، جیسے ایلون مسک اور ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف، نے بھی ہسپانوی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے سنسرشپ اور حد سے زیادہ کنٹرول قرار دیا ہے، جس سے تنازع مزید وسیع ہو گیا ہے۔

اس صورتحال میں برسلز ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی ادارے ایک طرف بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی کو ضروری سمجھتے ہیں، تو دوسری طرف وہ یورپی ڈیجیٹل مارکیٹ کو ٹکڑوں میں بٹنے اور پہلے سے متفقہ قوانین سے ٹکراؤ سے بچانا چاہتے ہیں۔

اسی تناظر میں اس ہفتے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں امیگریشن کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوگی۔ سرکاری طور پر اس کا مقصد ان خدشات کا جواب دینا ہے جو کئی رکن ممالک نے ہسپانوی تجاویز پر ظاہر کیے ہیں۔ خاص طور پر تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن پر ایک الگ نکتہ شامل کیا گیا ہے، جو اسپین کی حزبِ اختلاف کی درخواست پر رکھا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قومی اقدامات اور یورپی قوانین کے درمیان کوئی قابلِ قبول راستہ نکالا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ ٹکراؤ محض ضابطوں کا تنازع نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ قومی سیاست اور یورپی انضمام کے درمیان گہری کشیدگیاں موجود ہیں۔ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ داخلی پالیسیاں، چاہے وہ امیگریشن ہوں یا انٹرنیٹ کا کنٹرول، کس طرح پورے یورپ میں بڑے سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپی اداروں کے خلاف عوامی جذبات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے