کاتالونیا غیر قانونی تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن مسترد کرے اور بے دخلی کی پالیسی اپنائے،ووکس کا مطالبہ
Screenshot
بارسلونا: کاتالونیا کی پارلیمان میں دائیں بازو کی جماعت ووکس نے پیر کے روز ایک قرارداد جمع کرائی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاتالان حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کو مسترد کرے اور مرکزی حکومت کے سامنے غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہونے والے تمام تارکینِ وطن کی وطن واپسی (ریپٹری ایشن) کی حمایت کرے۔
قرارداد کے متن میں ووکس کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ اگناسیو گاریگا نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان ہسپانوی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرے کہ سنگین جرائم میں ملوث، معمولی جرائم کو پیشہ بنانے والے، یا معاشرے میں ضم ہونے سے انکار کرنے والے کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو ملک بدر کیا جائے۔
ووکس نے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران دی جانے والی تمام شہریتوں کا جامع اور تفصیلی آڈٹ کیا جائے، جبکہ قانونی ترامیم کے ذریعے ’آرائیگو‘ (مقامی بنیاد پر رہائش کی اجازت) کے نظام کو ختم کیا جائے، جسے قانونی رہائش کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ کاتالونیا کی حکومت، جس کی قیادت سلوادور اییا کر رہے ہیں، ایسی سخت اور منظم امیگریشن پالیسی اپنائے جو لیبر مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تنظیموں، این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کو دی جانے والی سرکاری امداد ختم کی جائے جو مبینہ طور پر غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دیتی ہیں۔
ووکس نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ کاتالونیا کے تمام بلدیاتی اداروں میں میونسپل رجسٹری (پادرون) سے متعلق ضوابط پر نظرثانی کی جائے، تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو بلدیاتی رجسٹریشن کی اجازت نہ دی جا سکے۔