ایپسٹین کیس میں ٹرمپ اور کلنٹن کا نام صاف کر دوں گی، بدلے میں صدارتی معافی دیں،غسلین میکسویل کی ٹرمپ کو پیشکش

Screenshot

Screenshot

نیویارک /بدنام زمانہ جنسی جرائم پیشہ جیفری ایپسٹین کی سابقہ ساتھی، گرل فرینڈ اور مرکزی سہولت کار غسلین میکسویل، جو اس وقت امریکہ میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک متنازع پیشکش کی ہے۔ میکسویل نے کہا ہے کہ اگر انہیں صدارتی معافی دی جائے تو وہ ایپسٹین کیس میں نہ صرف ٹرمپ بلکہ سابق صدر بل کلنٹن کا نام بھی “صاف” کر سکتی ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پیر کے روز میکسویل کو امریکی کانگریس کی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سامنے ورچوئل سماعت کے لیے طلب کیا گیا۔ یہ کمیٹی ایپسٹین اسکینڈل کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم میکسویل نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ان کے وکیل، ڈیوڈ آسکر مارکس، نے ایک بیان دے کر نیا تنازع کھڑا کر دیا، جو بعد میں سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا۔

وکیل کے مطابق،“اگر یہ کمیٹی اور امریکی عوام واقعی بغیر کسی فلٹر کے پوری سچائی جاننا چاہتے ہیں کہ ایپسٹین کے ساتھ اصل میں کیا ہوا، تو اس کا ایک سیدھا راستہ ہے: مس میکسویل مکمل اور دیانت دارانہ بیان دینے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ صدر ٹرمپ انہیں رعایت یا معافی دیں۔”

مارکس نے دعویٰ کیا کہ ان کی مؤکل کو “بنیادی طور پر ایک غیر منصفانہ مقدمے” کے بعد سزا سنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین کیس کی مکمل تصویر صرف غسلین میکسویل ہی پیش کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا،“کچھ لوگوں کو شاید وہ سچ پسند نہ آئے جو سامنے آئے، لیکن سچ کی اہمیت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر صدر ٹرمپ اور سابق صدر بل کلنٹن دونوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اس کی وضاحت صرف مس میکسویل ہی کر سکتی ہیں اور عوام کو یہ جاننے کا حق ہے۔”

کانگریس کمیٹی کے سامنے میکسویل کے خاموش رہنے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، دونوں جماعتوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن رکن جیمز کومر، نے میکسویل کے انکار کو “انتہائی مایوس کن” قرار دیا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس نے الزام لگایا ہے کہ میکسویل اپنی خاموشی کو صدارتی معافی کے بدلے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس سہاس سبرامنیئم نے کہا کہ میکسویل “مسلسل صدر سے معافی حاصل کرنے کی مہم چلا رہی ہیں” اور یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔

گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے میکسویل کو فلوریڈا کی کم سیکیورٹی والی وفاقی جیل سے ٹیکساس کی ایک اور، اس سے بھی کم سیکیورٹی والی، جیل میں منتقل کیا تھا۔ اس وقت وائٹ ہاؤس نے وضاحت دی تھی کہ میکسویل کو کسی قسم کی خصوصی رعایت نہیں دی گئی۔

اسی دوران، اس ماہ کے اختتام پر بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کو بھی کانگریسی کمیٹی کے سامنے بند کمرے میں گواہی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ دونوں نے صرف اس خدشے کے تحت حاضری پر رضامندی ظاہر کی کہ کہیں انہیں کانگریس کی توہین کا مرتکب قرار نہ دے دیا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے