یورپی پارلیمنٹ نے غیر قانونی قبضوں کو یورپ بھر کا مسئلہ قرار دے دیا

Screenshot

Screenshot

برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے غیر قانونی طور پر گھروں پر قبضے کو پورے یورپ کا سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مالکان کے ملکیتی حق کا تحفظ کریں اور ایسے فوری اور مؤثر قانونی طریقۂ کار متعارف کرائیں جن کے ذریعے مالکان اپنی جائیداد جلد واپس حاصل کر سکیں۔

پارلیمنٹ نے خاص طور پر ان چھوٹے مالکان کے تحفظ پر زور دیا ہے جو کرایے کی آمدن پر انحصار کرتے ہیں، جن میں پنشنرز بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں نجی اور سرکاری املاک پر قبضے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور منظم جرائم کے شبہے کی صورت میں یوروپول کے بہتر استعمال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ مؤقف یورپی پارلیمنٹ کی ہاؤسنگ بحران سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔ رپورٹ پر یورپی پاپولر پارٹی، سوشلسٹ اور لبرل گروپس کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور امکان ہے کہ مارچ میں اسے مکمل اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

رپورٹ میں یورپ میں ہاؤسنگ بحران کی بنیادی وجہ گھروں کی کمی کو قرار دیا گیا ہے اور تعمیراتی قوانین کو سادہ بنانے، اجازت ناموں میں تیزی اور زمین کے استعمال کے قواعد پر نظرثانی کی سفارش کی گئی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ کئی ممالک میں کرایے آمدن سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑ رہا ہے۔ اسی لیے پہلی بار گھر خریدنے والے نوجوانوں کے لیے سستے قرضوں اور ٹیکس میں رعایتوں کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کرایوں پر کنٹرول یا سخت حکومتی مداخلت کی تجاویز شامل نہیں کی گئیں، جو یورپی سطح پر اس معاملے میں ایک واضح مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے