ووکس کی جیت نے پاپولر پارٹی کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے ہر مجبور کردیا

Screenshot

Screenshot

ویلنسیا(دوست نیوز)اسپین کی مرکزی اپوزیشن جماعت، پاپولر پارٹی (پی پی) نے پہلی بار کھل کر اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ وہ ووکس کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہے۔ آراگون اور ایکستریمادورا کے حالیہ علاقائی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف دائیں بازو کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ پی پی کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر بھی مجبور کر دیا ہے۔

منگل کو ویلنسیا میں ایسوسی ایشن ویلنسیانا دے ایمپریساریوس (AVE) کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پی پی کے سربراہ البرتو نونیز فیخو نے کہا کہ آراگون کی علاقائی پارلیمان میں پی پی کے 26 اور ووکس کے 14 ارکان مجموعی طور پر 52 فیصد سے زائد ووٹوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے بقول آراگون اور ایکستریمادورا کے حالیہ انتخابات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ “لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے وہ اس کا اظہار کرتے ہیں”۔

فیخو نے تسلیم کیا کہ اس وقت ووٹرز میں خاصا غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “غصہ حکومت نہیں چلاتا، اکثریت چلایا کرتی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی ناراضی کو مسائل کے حل میں نہ ڈھالا گیا تو یہ مزید اشتعال کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ مؤقف پی پی کے سابقہ بیانات سے مختلف ہے۔ محض چھ ماہ قبل فیخو تنہا حکومت بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے تھے اور تییادو نے بھی واضح کیا تھا کہ ووکس کو حکومت میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ امکان زیرِ غور ہے کہ ایکستریمادورا میں ووکس پہلی یا دوسری حکومت سازی میں سخت مخالفت کرے، جبکہ آراگون میں پی پی کے امیدوار خورخے ازکون کے ساتھ کسی سمجھوتے کی راہ نکل آئے۔

یوں حالیہ علاقائی انتخابات نے نہ صرف دائیں بازو کے اتحاد کے امکانات کو تقویت دی ہے بلکہ قومی سیاست میں بھی نئی صف بندیاں واضح کر دی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے