کاتالونیا بھر میں ہزاروں اساتذہ کی ایک روزہ ہڑتال، تنخواہوں اور تعلیمی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز)کاتالونیا بھر میں بدھ کے روز ہزاروں اساتذہ نے بہتر تنخواہوں اور کام کے حالات کے لیے ایک روزہ ہڑتال کی اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

بارسلونا میں ریلی کا آغاز جاردینیتس دے گراسیا سے ہوا اور مظاہرین محکمۂ تعلیم کی عمارت (ویا آگستا) تک مارچ کرتے ہوئے پہنچے۔ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرے میں تقریباً 25 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ اساتذہ کی تنظیموں نے شرکا کی تعداد 70 ہزار بتائی ہے۔

یونین رہنماؤں نے محکمۂ تعلیم اور کاتالان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس “تاریخی” احتجاج کے بعد فوری عملی اقدامات کریں۔ یو ایس ٹی ای سی کی ترجمان یولاندا سیگورا نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو تعلیمی سال معمول کے مطابق مکمل نہیں ہو سکے گا۔

جرونا میں تقریباً 12 ہزار افراد نے مظاہرہ کیا، جبکہ تارراگونا اور لییدا میں پانچ پانچ ہزار کے قریب اساتذہ سڑکوں پر نکلے۔

ہڑتال کے دوران اساتذہ نے بدھ کی صبح مختلف شہروں میں اہم شاہراہیں بلاک کر دیں۔ صبح سات بجے کے قریب بارسلونا سمیت کئی مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں۔

بارسلونا میں روندا لیطورال کو ویلا اولمپیکا کے قریب تقریباً 45 منٹ تک دونوں اطراف سے بند رکھا گیا۔ اس کے علاوہ گران ویا، روندا دے دالت اور ایوینیدا میریدانا پر بھی ٹریفک متاثر ہوئی۔ ماتارو میں مظاہرین نے سی 32 موٹر وے کو آدھے گھنٹے تک بند رکھا۔

کئی مقامات پر مظاہرین اور کاتالان پولیس موسوس دے اسکوادرا کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی، تاہم بالآخر مظاہرین نے کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

یہ ہڑتال تعلیمی یونینز کی جانب سے دی گئی کال پر کی گئی، جن میں یو ایس ٹی ای سی، پروفیسرز دے سیکونداریہ، سی سی او او، سی جی ٹی اور یو جی ٹی شامل ہیں۔

یونینز کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی میں اساتذہ کی قوتِ خرید میں 20 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ ان کے اہم مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ، کلاسوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنا اور جامع یا انکلوژِو تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ شامل ہیں۔

یونینز نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو مارچ میں ایک ہفتے کی ہڑتال بھی کی جا سکتی ہے۔

محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس نے تنخواہ کے ایک مخصوص الاؤنس میں اضافے کی تجویز تیار کر رکھی ہے، تاہم اس کا انحصار 2026 کے بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری پر ہے۔

تعلیمی عہدیدار اگناسی خیمنیز نے کہا کہ 19 فروری کو یونینز کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں پیش کی جانے والی تجویز معاہدے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ مجوزہ اضافے کی درست رقم ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام گزشتہ 20 برس سے جمود کا شکار صورتِ حال میں پہلا عملی قدم ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ حکومت جامع تعلیم کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، تاہم عملی اقدامات کا انحصار پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری پر ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے